القرآن الكريم ابحث في القرآن بكلمة أو برقم مثل ٢:٢٨٢Ctrl K

قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْأَعْلَىٰ ٦٨

سورة طه، الآية ٦٨مكية
في سورتها

الترجمات

English: Noor International Center1.1.2، QuranEnc

We [i.e., Allāh] said, "Fear not. Indeed, it is you who are superior.

Portuguese: Helmi Nasr1.4.1، QuranEnc

Dissemos: "Não temas! Por certo, tu, tu és o superior;

Japanese: Saeed Sato1.0.13، QuranEnc

われら*は言った。「怖れるのではない。まさにあなたこそは、(彼らに対する)勝利者なのだから。

Urdu: Muhammad Junagarhi1.1.3، QuranEnc

ہم نے فرمایا کچھ خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا.[1]

[1] اس دہشت ناک منظر کو دیکھ کر اگر حضرت موسیٰ (عليه السلام) نے خوف محسوس کیا، تو یہ ایک طبعی چیز تھی، جو کمال نبوت کے منافی ہے نہ عصمت کے۔ کیونکہ نبی بھی بشر ہی ہوتا ہے اور بشریت کے طبعی تقاضوں سے نہ وہ بالا ہوتا ہے نہ ہو سکتا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس طرح انبیاءکو دیگر انسانی عوارض لاحق ہوتے ہیں یا ہوسکتے ہیں، اسی طرح وہ جادو سے بھی متاثر ہوسکتے ہیں، جس طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) پر بھی یہودیوں نے جادو کیا تھا، جس کے کچھ اثرات آپ محسوس کرتے تھے، اسے بھی منصب نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا، کیوں کہ اس سے کار نبوت متاثر نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ نبی کی حفاظت فرماتا ہے اور جادو سے وحی یا فریضہ رسالت کی ادائیگی کو متاثر نہیں ہونے دیتا۔ اور ممکن ہے کہ یہ خوف اس لئے ہو کہ میری لاٹھی ڈالنے سے قبل ہی کہیں لوگ ان کرتبوں اور شعبدہ بازیوں سے متاثر نہ ہوجائیں، لیکن اغلب ہے کہ یہ خوف اس لئے ہوا کہ ان جادوگروں نے بھی جو کرتب دکھایا، وہ لاٹھیوں کے ذریعے سے ہی دکھایا، جب کہ موسیٰ (عليه السلام) کے پاس بھی لاٹھی ہی تھی جسے انہیں زمین پر پھینکنا تھا، موسیٰ (عليه السلام) کے دل میں یہ خیال آیا کہ دیکھنے والے اس سے شبہے اور مغالطے میں نہ پڑ جائیں اور وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ دونوں نے ایک ہی قسم کا جادو پیش کیا، اس لئے یہ فیصلہ کیسے ہو کہ کون سا جادو ہے اور کون سے معجزہ؟ کون غالب ہے کون مغلوب؟ گویا جادو اور معجزے کا جو فرق واضح کرنا مقصود ہے، وہ مذکورہ مغالطے کی وجہ سے حاصل نہ ہوسکے گا، اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کو بسا اوقات یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ ان کے ہاتھ پر کس نوعیت کا معجزہ ظہور پذیر ہونے والا ہے۔ خود معجزہ کو ظاہر کرنے پر قدرت تو دور کی بات ہے، یہ تو محض اللہ کا کام ہے کہ وہ انبیاء کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے، بہرحال موسیٰ (عليه السلام) کے اندیشے اور خوف کو دور کرتے ہوئے اللہ تعالٰی نے فرمایا: موسیٰ! کسی بھی لحاظ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، تو ہی غالب رہے گا، اس جملے سے طبعی خوف اور دیگر اندیشوں، سب کا ہی ازالہ فرما دیا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، جیسا کہ اگلی آیات میں ہے۔

Indonesian: Ministry of Religious Affairs1.0.1، QuranEnc

Kami berfirman, "Jangan takut! Sungguh, engkaulah yang unggul (menang).

Turkish: Rowwad Translation Center1.0.4، QuranEnc

"Korkma! Şüphesiz sen daha üstünsün." dedik.

French: Rachid Maach1.0.3، QuranEnc

Nous l’avons alors rassuré : « Ne crains rien. C’est toi qui vas triompher.

Spanish: Isa Garcia1.0.2، QuranEnc

68. pero le dije: “No tengas temor, porque tú serás el vencedor.

Persian: Rowwad Translation Center1.1.3، QuranEnc

گفتیم: «نترس [که] تو قطعاً [پیروز و] برتری.

German: Frank Bubenheim1.1.4، QuranEnc

Wir sagten: „Fürchte dich nicht; du, ja gewiß du, wirst die Oberhand gewinnen.

Chinese: Muhammad Makeen1.0.2، QuranEnc

我说:“你不要怕,你确是占优势的。