إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِۦ مَا هَٰذِهِ ٱلتَّمَاثِيلُ ٱلَّتِىٓ أَنتُمْ لَهَا عَٰكِفُونَ ٥٢
الترجمات
When he said to his father and his people, "What are these statues to which you are devoted?"
Quando disse a seu pai e a seu povo: "Que são estes ídolos, que estais cultuando?"
彼(イブラーヒーム*)が自分の父親と民に、(こう)言った時[1]のこと(を思い起こさせよ)。「あなた方が仕えている、これらの偶像は何なのですか?」
[1] イブラーヒーム*とその父親、及びその民のやり取りについては、家畜章74-82、マルヤム*章42-48、詩人たち章70-89、整列者章85-98、金の装飾章26-28も参照。
جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں؟[1]
[1] تَمَاثِیْل، تِمْثَالُ کی جمع ہے۔ یہ اصل میں کسی چیز کی ہوبہو نقل کو کہتے ہیں۔ جیسے پتھر کا مجسمہ یا کاغذ اور دیوار پر کسی کی تصویر۔ یہاں مراد وہ مورتیاں ہیں جو قوم ابراہیم (عليه السلام) نے اپنے معبودوں کی بنا رکھی تھیں اور جن کی وہ عبادت کرتے تھے عَاكِفٌ، عُكُوفٌ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کے معنی کسی چیز کو لازم پکڑنے اور اس پر جھک کر جم کر بیٹھ رہنے کے ہیں۔ اسی سے اعتکاف ہے جس میں انسان اللہ کی عبادت کے لیے جم کر بیٹھتا ہے اور یکسوئی اور انہماک سے اس کی طرف لو لگاتا ہے یہاں اس سے مراد بتوں کی تعظیم وعبادت اور ان کے تھانوں پر مجاور بن کر بیٹھنا ہے یہ تمثالیں (مورتیاں اور تصویریں) قبر پرستوں اور پیر پرستوں میں بھی آجکل عام ہیں اور ان کو بڑے اہتمام سے گھروں اور دکانوں میں بطور تبرک آویزاں کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالٰی انہیں سمجھ عطا فرمائے۔
(Ingatlah), ketika dia (Ibrahim) berkata kepada ayahnya dan kaumnya, "Patung-patung apakah ini yang kamu tekun menyembahnya?"
Hani o, babasına ve kavmine: "Kendilerine ibadet edip, durduğunuz bu putlar nedir?" demişti.
lui qui, un jour, dit à son père et à son peuple : « Que sont ces statues auxquelles vous vouez un culte assidu ? »
52. Cuando dijo a su padre y a su pueblo: “¿Qué son estas estatuas a las que dedican su adoración?”
آنگاه که به پدر خود و قومش گفت: «این مجسمهها چیست که به عبادت آنها ایستادهاید؟»
Als er zu seinem Vater und seinem Volk sagte: „Was sind das für Bildwerke, deren Andacht ihr euch hingebt?
当时,他对他的父亲和宗族说:“你们所依恋的这些雕像是什么东西?”