إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ٱلَّذِى جَعَلْنَٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءً ٱلْعَٰكِفُ فِيهِ وَٱلْبَادِ ۚ وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍۢ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍۢ ٢٥
الترجمات
Indeed, those who have disbelieved and avert [people] from the way of Allāh and [from] al-Masjid al-Ḥarām, which We made for the people - equal are the resident therein and one from outside - and [also] whoever intends [a deed] therein[922] of deviation [in religion] by wrongdoing - We will make him taste of a painful punishment.
[922] Whether inside its boundaries or intending from afar to do evil therein. The Ḥaram is unique in that the mere intention of sin therein (whether or not it is actually carried out) is sufficient to bring punishment from Allāh.
Por certo, os que renegam a Fé e obstruem o caminho de Allah e da Mesquita Sagrada - que estabelecemos para todos os homens, seja o residente nela, seja o nômade - experimentarão doloroso castigo. E a quem deseja, com injustiça, fazer profanação nela, fá-lo-emos, também, experimentar de doloroso castigo.
本当に、不信仰に陥り、アッラー*の道と、ハラーム・マスジド*から阻む[1]者たち(は、損失者である)。それ(ハラーム・マスジド*)は、われら*がそこに居住する者にも、来訪者にも同様に、(信仰する)人々のためとしたもの。不正*にも、そこ(ハラーム・マスジド*)において(真理からの)偏向[2]を望む者には誰であろうと、われら*が痛ましい懲罰の内から味わわせるのだ。
[1] マッカ*の不信仰者*らは、人々がイスラーム*に入るのを阻み、フダイビーヤの和議*の年には、ムスリム*たちがハラーム・マスジド*に入ることを阻んだ(前掲書、同頁参照)。 [2] アッラー*に対する不服従のこと(前掲書、同頁参照)。
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے روکنے لگے اور اس حرمت والی مسجد سے[1] بھی جسے ہم نے تمام لوگوں کے لئے مساوی کر دیا ہے وہیں کے رہنے والے ہوں یا باہر کے ہوں[2]، جو بھی ﻇلم کے ساتھ وہاں الحاد کا اراده کرے[3] ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے.
[1] روکنے والوں سے مراد کفار مکہ ہیں جنہوں نے 6ہجری میں مسلمانوں کو مکہ جاکر عمرہ کرنے سے روک دیا تھا، اور مسلمانوں کو حدیبیہ سے واپس آنا پڑا تھا۔ [2] اس میں اختلاف ہے کہ مسجد حرام سے مراد خاص مسجد (خانہ کعبہ) ہی ہے یا پورا حرم مکہ۔ کیونکہ قرآن میں بعض جگہ پورے حرم مکہ کے لیے بھی مسجد حرام کا لفظ بولا گیا ہے۔، یعنی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔ جہاں تک خاص مسجد حرام کا تعلق ہے، اس کی بابت تو یہ بات متفقہ ہے کہ اس میں مقیم و غیر مقیم ملکی اور آفاقی سب کا حصہ مساوی ہے یعنی بلا تخسیص و تفریق ہر شخص رات اور دن کے کسی بھی حصے میں عبادت کرسکتا ہے۔ کسی کے لئے بھی کسی مسلمان کو عبادت سے روکنے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ جن علما نے مسجد حرام سے مراد پورا حرم لیا ہے۔ ان کے ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ پورا حرم مکی سب مسلمانوں کے لئے یکساں حیثیت رکھتا ہے اور اس کے مکانوں اور زمینوں کا کوئی مالک نہیں۔ اس لئے ان کی خرید و فروخت اور ان کو کرائے پر دینا ان کے نزدیک جائز نہیں۔ جو شخص بھی کسی جگہ سے حج یا عمرے کے لئے مکہ جائے تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ جہاں چاہے ٹھہر جائے، وہاں رہنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ٹھہرانے سے نہ روکیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ مکانات اور زمینیں ملک خاص ہو سکتی ہیں اور ان میں مالکانہ تصرفات یعنی بیچنا، کرائے پر دینا جائز ہے۔ البتہ وہ مقامات جن کا تعلق مناسک حج سے ہے، مثلاً منی، مزدلفہ اور عرفات کے میدان یہ وقف عام ہیں۔ ان میں کسی کی ملکیت جائز نہیں۔ یہ مسئلہ قدیم فقہاء کے درمیان خاصہ مختلف فیہ رہا ہے۔ تاہم آجکل تقریباً تمام کے تمام علماء ہی ملکیت خاص کے قائل ہوگئے ہیں۔ اور یہ مسئلہ سرے سے اختلافی ہی نہیں رہا۔ مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم نے بھی امام ابو حنیفہ اور فقہاء کا مسلک مختار اسی کو قرار پایا ہے۔ (ملاحظہ ہو معارف القرآن جلد 6صفحہ253) [3] الحاد کے لفظی معنی تو کج روی ہے ہیں یہاں یہ عام ہے، کفر و شرک سے لے کر ہر قسم کے گناہ کے لئے حتٰی کہ بعض عملا الفاظ قرآنی کے پیش نظر اس بات تک قائل ہیں کہ حرم میں اگر کسی گناہ کا ارادہ بھی کر لے گا، (چاہے اس پر عمل نہ کر سکے) تو وہ بھی اس وعید میں شامل ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ محض ارادے پر مؤاخذہ نہیں ہوگا، جیسا کہ دیگر آیات سے واضح ہے۔ تاہم ارادہ اگر عزم مصمم کی حد تک ہو تو پھر گرفت ہو سکتا ہے۔ (فتح القدیر)
Sungguh, orang-orang kafir dan yang menghalangi (manusia) dari jalan Allah dan dari Masjidil Haram yang telah Kami jadikan terbuka untuk semua manusia, baik yang bermukim di sana maupun yang datang dari luar. Dan siapa saja yang bermaksud melakukan kejahatan secara zalim di dalamnya, niscaya akan kami rasakan kepadanya siksa yang pedih.
Muhakkak kâfirlere, Allah'ın yolundan, yerli ve yolcu bütün insanlar için eşit kılınan Mescid-i Haram'dan alıkoyanlara ve de orada zulüm ile haktan sapmak isteyenlere, elim bir azaptan tattırırız.
Quant à ceux qui rejettent la foi, détournent les hommes de la religion d’Allah et interdisent aux croyants l’accès à la Mosquée sacrée que Nous avons établie pour tous les hommes, ceux qui y résident comme ceux qui y sont de passage, à ceux donc qui seraient tentés d’y commettre une injustice, Nous infligerons un douloureux châtiment.
25. A los que se nieguen a creer y aparten a la gente del sendero de Dios, e impidan acudir a la Mezquita Sagrada [de La Meca] que establecí para todas las gentes por igual, tanto para el residente como para el viajero, y a quienes quieran profanarla con injusticias, los haré sufrir un castigo doloroso.
بیگمان، كسانى كه كفر ورزیدند و [مانند ماجرای حدیبیه، مردم را] از راه الله بازمىدارند [عذابی دردناک در پیش دارند]؛ و مسجد الحرام كه آن را براى مردم [قبله و عبادتگاه] قرار دادیم، مقیم و مسافر در آن یكسانند؛ و هر کس در آنجا با ستمکاری [و گناه،] انحراف بخواهد، از عذابى دردناک به او میچشانیم.
Gewiß, diejenigen, die ungläubig sind und von Allahs Weg abhalten und (auch) von der geschützten Gebetsstätte, die Wir für die Menschen bestimmt haben, gleich ob sie dort ansässig oder nur vorübergehend anwesend sind (, werden ihre Strafe bekommen). Wer aber beabsichtigt, dort etwas Abwegiges zu Unrecht (zu begehen), den werden Wir von einer schmerzhaften Strafe kosten lassen.
不信道而且妨碍主道,并且妨碍我使众人——定居的和游牧的——共同尊敬禁寺者,(我将使他稍稍尝试痛苦的刑罚);谁因不义而欲在禁寺中违背正道,我将使谁稍稍尝试痛苦的刑罚。