القرآن الكريم ابحث في القرآن بكلمة أو برقم مثل ٢:٢٨٢Ctrl K

وَٱلْبُدْنَ جَعَلْنَٰهَا لَكُم مِّن شَعَٰٓئِرِ ٱللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌۭ ۖ فَٱذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهَا صَوَآفَّ ۖ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا۟ مِنْهَا وَأَطْعِمُوا۟ ٱلْقَانِعَ وَٱلْمُعْتَرَّ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرْنَٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ٣٦

سورة الحج، الآية ٣٦مدنية
في سورتها

الترجمات

English: Noor International Center1.1.2، QuranEnc

And the camels and cattle We have appointed for you as among the symbols [i.e., rites] of Allāh; for you therein is good. So mention the name of Allāh upon them when lined up [for sacrifice]; and when they are [lifeless] on their sides, then eat from them and feed the needy [who does not seek aid] and the beggar. Thus have We subjected them to you that you may be grateful.

Portuguese: Helmi Nasr1.4.1، QuranEnc

E os camelos, fizemo-los para vós, entre os ritos de Allah; neles, há bem para vós. Então, mencionai o nome de Allah sobre eles, enquanto perfilados para serem imolados. E, quando abatidos e, caem sobre os flancos, comei deles e alimentai o pobre e o mendigo. Assim, submetemo-los a vós, para serdes agradecidos.

Japanese: Saeed Sato1.0.13، QuranEnc

また、ラクダ[1](の犠牲)。われら*はそれを、あなた方に対するアッラー*の聖徴の一つとした。それには、あなた方にとっての善きもの[2]がある。ならば立ったまま[3]、それにアッラー*の御名を唱え(て屠)るのだ。それで、その体が崩れ落ち(て息絶え)たら、(あなた方自身)そこから食べ、遠慮深い貧者にも、せがむ貧者にも食べさせるがよい。アッラー*はそのように、あなた方が感謝すべく、それ(ラクダ)をあなた方に従わせたのである。

[1] ここで「ラクダ」と訳した原語「ブドゥン」は、特にカァバ神殿*に捧げられるラクダのことを指すという(アル=クルトゥビー12:61参照)。 [2] 「善きもの」とは、食や施(ほどこ)し 、来世での褒美などのこと(ムヤッサル336頁参照)。 [3] つまり、いずれかの前足を縛(しば)り、三本足の状態で立たせたまま(アッ=サァディー538頁参照)。

Urdu: Muhammad Junagarhi1.1.3، QuranEnc

قربانی کے اونٹ[1] ہم نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مقرر کر دی ہیں ان میں تمہیں نفع ہے۔ پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو[2]، پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ[3] جائیں اسے (خود بھی) کھاؤ[4] اور مسکین سوال سے رکنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ[5]، اسی طرح ہم نے چوپایوں کو تمہارے ماتحت کردیا ہے کہ تم شکر گزاری کرو.

[1] دْنٌ، بَدَنةٌ کی جمع ہے یہ جانور عام طور پر موٹا تازہ ہوتا ہے اس لیے بدنۃ کہا جاتا ہے۔ فربہ جانور۔ اہل لغت نے اسے صرف اونٹوں کے ساتھ خاص کیا ہے لیکن حدیث کی رو سے گائے پر بھی بدنۃ کا اطلاق صحیح ہے مطلب یہ ہے کہ اونٹ اور گائے جو قربانی کے لیے لیے جائیں یہ بھی شعائر اللہ یعنی اللہ کے ان احکام میں سے ہیں جو مسلمانوں کے لیے خاص اور ان کی علامت ہیں۔ [2] صَوَافَّ مَصْفُوفَةً (صف بستہ یعنی کھڑے ہوئے) معنی میں ہے اونٹ کو اسی طرح کھڑے کھڑے نحر کیا جاتا ہے کہ بایاں ہاتھ پاؤں اس کا بندھا ہوا اور تین پاؤں پر وہ کھڑا ہوتا ہے۔ [3] یعنی سارا خون نکل جائے اور وہ بےروح ہو کر زمین پر گرے تب اسے کاٹنا شروع کرو۔ کیونکہ جی دار جانور کا گوشت کاٹ کر کھانا ممنوع ہے۔ «مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ، فَهُوَ مَيْتَةٌ» ( أبو داود، كتاب الصيد، باب في صيد قطع منه قطعة- ترمذي، أبواب الصيد، باب ما جاء ما قطع من الحي فهو ميت، وابن ماجه) ”جس جانور سے اس حال میں گوشت کاٹا جائے کہ وہ زندہ ہو تو وہ (کاٹا) ہوا گوشت مردہ ہے“۔ [4] بعض علماء کے نزدیک یہ امر وجوب کے لئے ہے یعنی قربانی کا گوشت کھانا، قربانی کرنے والے کے لئے واجب ہے یعنی ضروری ہے اور اکثر علماء کے نزدیک یہ امر جواز کے لئے ہے۔ یعنی اس امر کا مقصد صرف جواز کا اثبات یعنی اگر کھا لیا جائے تو جائز یا پسندیدہ ہے اور اگر کوئی نہ کھائے بلکہ سب کا سب تقسیم کر دے تو کوئی گناہ نہیں ہے۔ [5] قانع کے ایک معنی سائل کے اور دوسرے معنی قناعت کرنے والے کے کیے گئے ہیں یعنی وہ سوال نہ کرے اور معتر کے معنی بعض نے بغیر سوال کے سامنے آنے والے کے کیے ہیں اور تیسرا سائلین اور معاشرے کی ضرورت مند افراد کے لیے۔ جس کی تائید میں یہ حدیث بھی پیش کی جاتی جس میں رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا میں نے تمہیں (پہلے) تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت ذخیرہ کرکے رکھنے سے منع کیا تھا لیکن اب تمہیں اجازت ہے کہ کھاؤ اور جو مناسب سمجھو ذخیرہ کرو دوسری روایت کے الفاظ ہیں پس کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو"۔ ایک اور روایت کے الفاظ اس طرح ہیں "پس کھاؤ، کھلاؤ اور صدقہ کرو" (البخاری کتاب الاضاحی ۔ مسلم کتاب الاضاحی، باب بیان ما کان من النھی عن اکل لحوم الاضاحی بعد ثلاث والسنن) بعض علما دو حصے کرنے کے قائل ہیں۔ نصف اپنے لئے اور نصف صدقے کے لئے، وہ اس سے ما قبل گزرنے والی آیت «فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ» سے استدلال کرتے ہیں۔ لیکن درحقیقت کسی بھی ایت یا حدیث سے اس طرح کے دو یا تین حصوں میں تقسیم کرنے کا حکم نہیں نکلتا بلکہ ان میں مطلقاً کھانے کھلانے کا حکم ہے۔ اس لئے اس اطلاق کو اپنی جگہ برقرار رہنا چاہیے اور کسی تقسیم کا پابند نہیں بنانا چاہیے۔ البتہ قربانی کی کھالوں کی بابت اتفاق ہے کہ اسے یا تو اپنے استعمال میں لاؤ یا صدقہ کردو، اسے بیچنے کی اجازت نہیں ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے، (مسند احمد: 4/15) تاہم بعض علماء نے کھال خود بیچ کر اس کی قیمت فقراء پر تقسیم کرنے کی رخصت دی ہے، (ابن کثیر) ایک ضروری وضاحت: قرآن کریم میں یہاں قربانی کا ذکر مسائل حج کے ضمن میں آیا ہے، جس سے منکرین حدیث یہ استدلال کرتے ہیں کہ قربانی صرف حاجیوں کے ہی ہے۔ دیگر مسلمانوں کے لئے یہ ضروری نہیں۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں۔ قربانی کرنے کا مطلق حکم بھی دوسرے مقام پر موجود ہے، «فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ» (الکوثر:2) «اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر»۔ اس کی تبیین و تشریح (عملی) نبی (صلى الله عليه وسلم) نے اس طرح فرمائی کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) خود مدینے میں ہر سال 10 ذوالحجہ کو قربانی کرتے رہے اور مسلمانوں کو بھی قربانی کرنے کی تاکید کرتے رہے۔ چنانچہ صحابہ (رضي الله عنهم) بھی کرتے رہے۔ علاوہ ازیں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے قربانی کی بابت جہاں دیگر بہت سی ہدایات دیں، وہاں یہ بھی فرمایا کہ 10 ذوالحجہ کو ہم سب سے پہلے (عید کی) نماز پڑھیں اور اس کے بعد جاکر جانور ذبح کریں، فرمایا، "جس نے نماز (عید) سے قبل اپنی قربانی کرلی، اس نے گوشت کھانے میں جلدی کی، اس کی قربانی نہیں ہوئی، (صحيح بخاري ، كتاب العيدين ، باب التبكير إلى العيد ، ومسلم كتاب الأضاحي ، باب ... وقتها) اس سے بھی واضح ہے کہ قربانی کا حکم ہر مسلمان کے لئے ہے وہ جہاں بھی ہو۔ کیوں کہ حاجی تو عید الاضحیٰ کی نماز ہی نہیں پڑھتے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ حکم غیر حاجیوں کے لئے ہی ہے۔ تاہم یہ واجب نہیں ہے۔ سنت مؤکدہ ہے۔ اسی طرح دکھلاوے کی نیت سے کئی کئی قربانیاں کرنے کا رواج بھی خلاف سنت ہے۔ حدیث کے مطابق پورے گھر کے افراد کی طرف سے ایک جانور کی قربانی کافی ہے۔ صحابہ کا عمل اسی کے مطابق تھا، (ترمذي، أبواب الأضاحي، ما جاء أن الشاة الواحدة تجزئ عن أهل البيت، وابن ماجه)

Indonesian: Ministry of Religious Affairs1.0.1، QuranEnc

Dan unta-unta itu Kami jadikan untukmu bagian dari syiar agama Allah, kamu banyak memperoleh kebaikan padanya. Maka sebutlah nama Allah (ketika kamu akan menyembelihnya) dalam keadaan berdiri[548] (dan kaki-kaki telah terikat). Kemudian apabila telah rebah (mati), maka makanlah sebagiannya dan berilah makan orang yang merasa cukup dengan apa yang ada padanya (tidak meminta-minta) dan orang yang meminta. Demikianlah Kami tundukkan (unta-unta itu) untukmu, agar kamu bersyukur.

[548] Lazimnya, unta disembelih dalam posisi berdiri.

Turkish: Rowwad Translation Center1.0.4، QuranEnc

Kurbanlık develeri, sizin için Allah’ın nişanelerinden kıldık. Sizin için onlarda hayır vardır. Onlar ayakları üzere iken kendilerine Allah’ın adını anın. Yanları üzerlerine düşüp canları çıkınca onlardan siz de yiyin; istemeyen fakire de, istemek zorunda kalan fakire de yedirin. Şükredesiniz diye onları böylece sizin hizmetinize verdik.

French: Rachid Maach1.0.3، QuranEnc

Nous avons fait pour vous des chamelles des bêtes sacrificielles où vous trouvez bien des avantages. Prononcez donc sur elles le nom d’Allah lorsqu’elles sont sur le point d’être immolées. Puis, lorsqu’elles gisent sans vie sur le flanc, vous pouvez vous nourrir de leur chair sans oublier d’en distribuer une partie aux nécessiteux qui s’abstiennent de quémander comme aux mendiants. Nous vous les avons ainsi soumises afin que vous vous montriez reconnaissants.

Spanish: Isa Garcia1.0.2، QuranEnc

36. Establecí que [el sacrificio] de los ganados[1] sea parte de los ritos de Dios, en ello hay un bien para ustedes[2]. Mencionen el nombre de Dios sobre ellos cuando estén dispuestos en fila [para ser sacrificados]. Luego, cuando se desplomen sobre sus costados [sin vida], coman de ellos y den de comer al mendigo y al necesitado. Así los puse a su servicio para que sean agradecidos.

[1] Aquellos que realizan la peregrinación ofrecen como parte de los ritos el sacrificio de un cordero, o siete personas pueden ofrecer un novillo o un camello, cuya carne debe ser distribuida entre los pobres. [2] Porque ayuda a quien sacrifica a desapegarse de su dinero y ayuda al pobre, quien recibe una ayuda generosa, lo que reconcilia los corazones de todos los integrantes de la sociedad y la comunidad islámica mundial.

Persian: Rowwad Translation Center1.1.3، QuranEnc

[قربانی کردنِ] شتر [و گاو در موسمِ حج] را برای شما از شعایر دین [و نشانه‌های عبادت الله] قرار دادیم. در این [کار،] خیر [و برکت] برایتان است. [هنگام قربانی،] در حالی‌ که [شتران] بر پا ایستاده‌اند، نام الله را بر آنها ببرید [و نحرشان کنید]. آنگاه چون بر خاک افتادند، از [گوشت] آنها بخورید و نیازمندان آبرومند و گدایان را نیز اطعام کنید. آنها [= چهارپایان] را اینچنین به خدمت شما گماشتیم؛ باشد که شکر به جای آورید.

German: Frank Bubenheim1.1.4، QuranEnc

Und die Opferkamele haben Wir euch zu Kultzeichen Allahs gemacht. An ihnen habt ihr (etwas) Gutes. So sprecht den Namen Allahs über sie aus, wenn sie mit gebundenen Beinen dastehen. Wenn sie nun auf die Seite umgefallen sind, dann eßt davon und gebt dem bescheidenen und dem fordernden (Armen) zu essen. So haben Wir sie euch dienstbar gemacht, auf daß ihr dankbar sein möget.

Chinese: Muhammad Makeen1.0.2، QuranEnc

我为你们以骆驼为安拉的标志,它们对于你们有许多用处;它们排列成行的时候,你们应当为屠宰它们而记念安拉之名;当它们侧卧在地上的时候,你们可以吃它们的肉,并应当款待知足的贫民和乞讨的贫民。我为你们这样制服它们,以便你们感谢。