إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلْفَٰحِشَةُ فِى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ١٩
الترجمات
Indeed, those who like that immorality[981] should be spread [or publicized] among those who have believed will have a painful punishment in this world and the Hereafter. And Allāh knows[982] and you do not know.
[981] Specifically, unlawful sexual relations. [982] The hidden aspects of all things: what is beneficial and what is harmful.
Por certo, os que amam que a obscenidade se dissemine, entre os que crêem, terão doloroso castigo na vida terrena e na Derradeira Vida. E Allah sabe, e vós não sabeis.
本当に、(ムフサン*である)信仰する者たちの中に醜行[1]が広まることを好む者たち、彼らには現世と来世において痛ましい懲罰[2]がある。アッラー*がご存知なのであり、あなた方は知らないのだ。
[1] この「醜行」は、根拠もなく他人を姦通で訴えることを始めとした、その外諸々の悪い言葉のこと(前掲書、同頁参照)。蜜蜂章90「醜行」の訳注も参照。 [2] 「現世での懲罰」は、固定刑*による刑罰のこと。また悔悟しない限り、来世においては地獄の懲罰がある(アッ=タバリー7:6011参照)。
جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں[1] ، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے.
[1] فَاحِشَةٌ کے معنی بےحیائی کے ہیں اور قرآن نے بدکاری کو بھی فاحشہ قرار دیا ہے، (بنی اسرائیل) اور یہاں بدکاری کی ایک جھوٹی خبر کی اشاعت کو بھی اللہ تعالیٰ نے بےحیائی سے تعبیر فرمایا ہے اور اسے دنیا وآخرت میں عذاب الیم کا باعث قرار دیا ہے، جس سے بےحیائی کے بارے میں اسلام کے مزاج کا اور اللہ تعالیٰ کی منشا کا اندازہ ہوتا ہے کہ محض بےحیائی کی ایک جھوٹی خبر کی اشاعت عند اللہ اتنا بڑا جرم ہے تو جو لوگ رات دن ایک مسلمان معاشرے میں اخبارات، ریڈیو، ٹی وی اور فلموں ڈراموں کے ذریعے سے بےحیائی پھیلا رہے ہیں اور گھر گھر اسے پہنچا رہے ہیں، اللہ کے ہاں یہ لوگ کتنے بڑے مجرم ہوں گے؟ اور ان اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کیوں کر اشاعت فاحشہ کے جرم سے بری الذمہ قرار پائیں گے؟ اسی طرح اپنے گھروں میں ٹی وی لا کر رکھنے والے، جس سے ان کی آئندہ نسلوں میں بےحیائی پھیل رہی ہے، وہ بھی اشاعت فاحشہ کے مجرم کیوں نہیں ہوں گے؟ اور یہی معاملہ فواحش اور منکرات سے بھرپور روزنامہ اخبارات کا ہے کہ ان کا بھی گھروں کے اندر آنا، اشاعت فاحشہ کا ہی سبب ہے، یہ بھی عنداللہ جرم ہوسکتا ہے۔ کاش مسلمان اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اس بےحیائی کے طوفان کو روکنے کے لئے اپنی مقدور بھر سعی کریں۔
Sesungguhnya orang-orang yang ingin agar perbuatan yang sangat keji itu (berita bohong) tersiar di kalangan orang-orang yang beriman, mereka mendapat azab yang pedih di dunia dan di akhirat. Dan Allah mengetahui, sedang kamu tidak mengetahui.
İman edenler arasında fuhşun (kötülüklerin) yayılmasını arzu edenlere, dünya ve ahirette acı bir azap vardır. Allah bilir, siz bilmezsiniz.
Ceux qui aiment voir se propager le vice parmi les croyants subiront un douloureux châtiment ici-bas et dans l’au-delà. Allah sait, tandis que vous, vous ne savez pas.
19. Aquellos que desean que se propague la obscenidad entre los creyentes tendrán un castigo doloroso en esta vida y en la otra. Dios sabe y ustedes no saben.
کسانی که دوست دارند زشتکاری در میان مؤمنان رایج گردد، قطعاً در دنیا و آخرت عذابی دردناک [در پیش] دارند؛ و الله [حقایق و مصالح را] میداند و شما نمیدانید.
Diejenigen, die es lieben, daß sich das Abscheuliche unter denjenigen, die glauben, verbreitet, für sie wird es schmerzhafte Strafe geben im Diesseits und Jenseits. Allah weiß, ihr aber wißt nicht.
凡爱在信士之间传播丑事的人,在今世和后世,必受痛苦的刑罚。安拉知道,你们却不知道。