وَأَنكِحُوا۟ ٱلْأَيَٰمَىٰ مِنكُمْ وَٱلصَّٰلِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَآئِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا۟ فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌۭ ٣٢
الترجمات
And marry the unmarried among you and the righteous among your male slaves and female slaves. If they should be poor, Allāh will enrich them from His bounty, and Allāh is all-Encompassing and Knowing.
E casai os solteiros, dentre vós, e os íntegros, dentre vossos servos e vossas servas. Se são pobres, Allah enriquecê-los-á de Seu favor. E Allah é Munificente, Onisciente.
(信仰者たちよ、自分の後見下にある)あなた方の内の独身者と、あなた方の奴隷*男性と奴隷*女性の正しい者*たち[1]を、結婚させるがよい。もし彼らが貧しくても、アッラー*がそのご恩寵から(彼らにお恵みになり、)彼らを豊かにして下さる。アッラー*は、広量な*お方、全知者であられるのだから。
[1] 「正しい」には、宗教的な正しさの外、結婚するに適当な、という意味も含まれ得る(アッ=サァディー567頁参照)。
تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو[1] اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی[2]۔ اگر وه مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا[3]۔ اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے.
[1] ۔أَيَامَى، أَيِّمٌ کی جمع ہے، أَيِّمٌ ایسی عورت کو کہا جاتا ہے جس کا خاوند نہ ہو، جس میں کنواری، بیوہ اور مطلقہ تینوں آجاتی ہیں۔ اور ایسے مرد کو بھی أَيِّمٌ کہتے ہیں جس کی بیوی نہ ہو۔ آیت میں خطاب اولیاء سے ہے کہ نکاح کر دو، یہ نہیں فرمایا کہ نکاح کر لو، کہ مخاطب نکاح کرنے والے مردو عورت ہوتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورت ولی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر از خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی۔ جس کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح امر کے صیغے سے بعض نے استدلال کیا ہے کہ نکاح کرنا واجب ہے، جب کہ بعض نے اسے مباح اور بعض نے مستحب قرار دیا ہے۔ تاہم استطاعت رکھنے والے کے لئے یہ سنت موکدہ بلکہ بعض حالات میں واجب ہے اور اس سے اعراض سخت وعید کا باعث ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے «وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي» (البخاري نمبر 50 63، ومسلم، نمبر 1020 ) "جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیںL۔ [2] یہاں صالحیت سے مراد ایمان ہے، اس میں اختلاف ہے کہ مالک اپنے غلام اور لونڈیوں کو نکاح کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں یا نہیں؟ بعض اکراہ کے قائل ہیں، بعض نہیں۔ تاہم اندیشہ ضرر کی صورت میں شرعاً مجبور کرنا جائز ہے۔ بصورت دیگر غیر مشروع (ایسرالتفاسیر)۔ [3] یعنی محض غربت اور تنگ دستی نکاح میں مانع نہیں ہونی چاہیئے۔ ممکن ہے نکاح کے بعد اللہ ان کی تنگ دستی کو اپنے فضل سے وسعت وفراخی میں بدل دے۔ حدیث میں آتا ہے۔ تین شخص ہیں جن کی اللہ ضرور مدد فرماتا ہے۔ 1۔ نکاح کرنے والا، جو پاک دامنی کی نیت سے نکاح کرتا ہے۔ 2۔ مکاﺗب غلام، جو ادائیگی کی نیت رکھتا ہے۔ 3۔ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔ (ترمذي- أبواب فضائل الجهاد، باب ما جاء في المجاهد، والمكاتب والنكاح)۔
Dan nikahkanlah orang-orang yang masih membujang di antara kamu, dan juga orang-orang yang layak (menikah) dari hamba-hamba sahayamu yang laki-laki dan perempuan. Jika mereka miskin, Allah akan memberi kemampuan kepada mereka dengan karunia-Nya. Dan Allah Mahaluas (pemberian-Nya), Maha Mengetahui.
İçinizden bekârları, köle ve cariyelerinizden salih olanları evlendirin. Eğer fakir iseler, Allah onları lütfu ile zenginleştirir. Allah, (hayrı, ihsanı) geniş/boldur, her şeyi hakkıyla bilendir.
Mariez ceux d’entre vous[16] qui sont sans conjoints ainsi que vos esclaves, hommes ou femmes, qui sont vertueux[17]. S’ils sont pauvres, Allah pourvoira par Sa grâce à leurs besoins. Les faveurs et la science d’Allah sont infinies.
[16] Parmi les hommes et les femmes libres. [17] Ou : aptes au mariage.
32. Ayuden a que los solteros y los esclavos piadosos se casen. [No teman] si son pobres, porque Dios los sustentará con Su gracia. Él es Vasto, lo sabe todo.
[ای مؤمنان،] مردان و زنان مجردِ خود را همسر دهید و غلامان و کنیزانتان را که شایستگی دارند [نیز همسر دهید]. اگر آنان فقیر [و تنگدست] باشند، الله از بخشش [و لطفِ] خویش بینیازشان میسازد؛ و الله گشایشگرِ آگاه است.
Und verheiratet die noch ledigen (Männer und Frauen) unter euch und die Rechtschaffenen von euren Sklaven und euren Sklavinnen. Wenn sie arm sind, wird Allah sie durch Seine Huld reich machen. Allah ist Allumfassend und Allwissend.
你们中未婚的男女和你们的善良的奴婢,你们应当使他们互相配合。如果他们是贫穷的,那么,安拉要以他的恩惠,使他们富足。安拉是富裕的,是全知的。