فِى بُيُوتٍ أَذِنَ ٱللَّهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا ٱسْمُهُۥ يُسَبِّحُ لَهُۥ فِيهَا بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْءَاصَالِ ٣٦
الترجمات
[Such niches are] in houses [i.e., mosques] which Allāh has ordered to be raised and that His name be mentioned [i.e., praised] therein; exalting Him within them in the morning and the evenings[999]
[999] The term used here can refer to either afternoon or evening.
Em casas, que Allah permitiu fossem erguidas e em que fosse celebrado Seu Nome, nelas, glorificam-nO, ao amanhecer e ao entardecer,
アッラー*が、(それが)高められることと、かれの御名が唱念されることをご命じになった館[1]の中で、朝に夕に、そこでかれを称え*る[2]。
[1] この「館」は、マスジド*のこと(ムヤッサル354頁参照)。「高められ」たということには、建築物としての物質的な高さを始め、汚れ、害悪、不信仰、戯れごと、アッラー*以外の名が念じられることなどから遠ざけられるという、抽象的な意味での崇高さも含み得る(アッ=サァディー569頁参照)。 [2] 大半の解釈学者は、この「称える*」を「義務の礼拝」としている(アッ=シャウカーニー4:48参照)。
ان گھروں میں جن کے بلند کرنے، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے[1] وہاں صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں.[2]
[1] جب اللہ تعالیٰ نے قلب مومن کو اور اس میں جو ایمان وہدایت اور علم ہے، اس کو ایسے چراغ سے تشبیہ دی جو شیشے کی قندیل میں ہو اور جو صاف شفاف تیل سے روشن ہو۔ تو اب اس کا محل بیان کیا جارہا ہے کہ یہ قندیل ایسے گھروں میں ہیں، جن کی بابت حکم دیا گیا ہے کہ انہیں بلندکیا جائے اور ان میں اللہ کا ذکر کیا جائے۔ مراد مسجدیں ہیں، جو اللہ کو زمین کے حصوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ بلندی سے مراد محض سنگ وخشت کی بلندی نہیں ہے بلکہ اس میں مسجدوں کو گندگی، لغویات اور غیرمناسب اقوال و افعال سے پاک رکھنا بھی شامل ہے۔ ورنہ محض مسجدوں کی عمارتوں کو عالی شان اور فلک بوس بنا دینا، مطلوب نہیں ہے بلکہ احادیث میں مسجدوں کو زرنگار اور زیادہ آراستہ وپیراستہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور ایک حدیث میں تو اسے قرب قیامت کی علامات میں سے بتلایا گیا ہے۔ (أبو داود، كتاب الصلاة باب في بناء المساجد) علاوہ ازیں، جس طرح مسجدوں میں تجارت وکاروبار اور شور وشغب ممنوع ہیں کیونکہ یہ مسجد کے اصل مقصد، عبادت کے منفی ہیں۔ اسی طرح اللہ کا ذکر کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ صرف ایک اللہ کا ذکر کیا جائے، اسی کی عبادت کی جائے اور صرف اسی کو مدد کے لئے پکارا جائے۔ «وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا» (سورة جن: 18) ”مسجدیں، اللہ کے لئے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو“۔ [2] تسبیح سے مراد نماز ہے۔ آصَالٌ، أَصِيلٌ کی جمع ہے بمعنی شام۔ یعنی اہل ایمان، جن کے دل ایمان و ہدایت کے نور سے روشن ہوتے ہیں، صبح وشام مسجدوں میں اللہ کی رضا کے لئے نماز پڑھتے اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔
(Cahaya itu) di rumah-rumah yang di sana telah diperintahkan Allah untuk memuliakan dan menyebut nama-Nya, di sana bertasbih (menyucikan)[565] nama-Nya pada waktu pagi dan petang,
[565] Yang bertasbih ialah orang yang disebut pada ayat 37.
(Bu nur) Allah'ın, yükseltilmesine ve içlerinde adının zikredilmesine izin verdiği evlerdedir. Oralarda sabah akşam O'nu tesbih ederler.
Dans des temples[27] qu’Allah a permis d’élever afin que Son nom y soit invoqué, Lui rendent gloire matin et soir
[27] Les mosquées, selon la majorité des exégètes.
36. [Esas hornacinas están] en las casas [de oración][1] que Dios permitió que fueran erigidas y honradas para que se invoque Su nombre. En ellas Lo glorifican por la mañana y por la tarde.
[1] Las mezquitas.
[این چراغ هدایت،] در مساجدی است که الله امر کرده است تا [قدر و منزلتشان] گرامی داشته شود و نامش در آنها برده شود [و] در آنجا بامدادان و شامگاهان او را به پاکی بستایند.
(Solche Lampen gibt es) in Häusern, für die Allah erlaubt hat, daß sie errichtet werden und daß darin Sein Name genannt wird. Ihn preisen darin, am Morgen und am Abend,
有些寺院,安拉允许建立之,并允许在其中颂扬他的真名。在那里朝夕赞颂安拉超绝万物的,