لَقَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًۭا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ ١٦٤
الترجمات
Certainly did Allāh confer [great] favor upon the believers when He sent among them a Messenger from themselves, reciting to them His verses and purifying them and teaching them the Book [i.e., the Qur’ān] and wisdom,[149] although they had been before in manifest error.
[149] The Prophet's sunnah.
Com efeito, Allah fez mercê aos crentes, quando lhes enviou um Mensageiro vindo deles, o qual recita Seus versículos para eles, e os dignifica e lhes ensina o Livro[1] e a Sabedoria. E por certo, antes, estavam em evidente descaminho.
[1] O Livro: o Alcorão.
アッラー*は信仰者たちの上に、確かにお恵みをかけられた。かれが彼ら自身の内から彼らの中に、その御徴(アーヤ*)を彼らに誦み聞かせ、彼らを清め、彼らに啓典と英知[1]を教える一人の使徒*を遣わされた時のこと。(その使徒*が遣わされる)以前、彼らは明白な迷いの中にあったのだ。
[1] 「清める」「英知」に関しては、雌牛章129の訳注を参照。
بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا[1] ، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت[2] سکھاتا ہے[3]، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے.
[1] نبی کے بشر اور انسانوں میں سے ہی ہونے کو اللہ تعالیٰ ایک احسان کے طور پر بیان کر رہا ہے اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان اور لہجے میں ہی اللہ کا پیغام پہنچائے گا جسے سمجھنا ہر شخص کے لئے آسان ہوگا۔ دوسرے، لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور اس کے قریب ہوں گے۔ تیسرے انسان کے لئے انسان، یعنی بشر کی پیروی تو ممکن ہے لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں اورنہ فرشتہ انسان کے وجدان وشعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ اس لئے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری خوبیوں سے محروم ہوتے جو تبلیغ ودعوت کے لئے نہایت ضرورت ہے۔ اس لئے جتنے بھی انبیاء آئے ہیں سب کے سب بشر ہی تھے۔ قرآن نے ان کی بشریت کو خوب کھول کر بیان کیا ہے۔ مثلاً فرمایا وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلا رِجَالا نُوحِي إِلَيْهِمْ (يوسف:109) ”ہم نے آپ (صلى الله عليه وسلم) سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے وہ مرد تھے جن پر ہم وحی کرتے تھے“،«وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الأَسْوَاقِ» (سورة الفرقان:20) ”ہم نے آپ (صلى الله عليه وسلم) سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے، سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے تھے“۔ اور خود نبی (صلى الله عليه وسلم) کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا «قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ» (سورة حم السجدة: 6) ”آپ (صلى الله عليه وسلم) کہہ دیجئے میں بھی تو تمہاری طرح صرف بشر ہی ہوں البتہ مجھ پر وحی کا نزول ہوتا ہے“۔ آج بہت سے افراد اس چیز کو نہیں سمجھتے اور انحراف کا شکار ہیں۔ [2] اس آیت میں نبوت کے تین اہم مقاصد بیان کئے گئے ہیں۔ - تلاوت آیات۔ - تزکیہ۔ - تعلیم کتاب وحکمت۔ تعلیم کتاب میں تلاوت ازخود آجاتی ہے، تلاوت کے ساتھ ہی تعلیم ممکن ہے، تلاوت کے بغیر تعلیم کا تصور ہی نہیں۔ اس کے باوجود تلاوت کو الگ ایک مقصد کے طور پر ذکر کیا گیا ہے جس سے اس نکتے کی وضاحت مقصود ہے کہ تلاوت بجائے خود ایک مقدس اور نیک عمل ہے، چاہے پڑھنے والا اس کا مفہوم سمجھے یا نہ سمجھے۔ قرآن کے معانی ومطالب کو سمجھنے کی کوشش کرنا یقیناً ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ لیکن جب تک یہ مقصد حاصل نہ ہو یا اتنی فہم واستعداد بہم نہ پہنچ جائے، تلاوت قرآن سے اعراض یا غفلت جائز نہیں، تزکیے سے مراد عقائد اور اعمال واخلاق کی اصلاح ہے، جس طرح آپ (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں شرک سے ہٹا کر توحید پر لگایا اسی طرح نہایت بداخلاق اور بداطوار قوم کو اخلاق وکردار کی رفعتوں سے ہمکنار کر دیا، حکمت سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک حدیث ہے۔ [3] یہ إنْ مُخَفَّفَةٌ مِنَ الْمُثَقَّلَةِ ہے یعنی (إِنَّ) (تحقیق،یقیناً بلاشبہ) کے معنی ہیں۔
Sungguh, Allah telah memberi karunia kepada orang-orang beriman ketika (Allah) mengutus seorang Rasul (Muhammad) di tengah-tengah mereka dari kalangan mereka sendiri, yang membacakan kepada mereka ayat-ayat-Nya, menyucikan (jiwa) mereka, dan mengajarkan kepada mereka Kitab (Al-Qur`an) dan Hikmah (Sunah), meskipun sebelumnya, mereka benar-benar dalam kesesatan yang nyata.
Andolsun Allah, Müminlere kendi içlerinden; onlara ayetlerini okuyan, onları arıtıp tertemiz yapan, onlara kitap ve hikmeti öğreten bir peygamber göndermekle büyük bir lütufta bulunmuştur. Oysa onlar, daha önce apaçık bir sapıklık içinde idiler.
Allah a certainement comblé les croyants de Ses faveurs en suscitant l’un des leurs comme Messager chargé de leur réciter Ses versets, de purifier leurs cœurs et de leur enseigner le Livre et la Sagesse, eux qui étaient auparavant manifestement égarés.
164. Dios ha dado Su favor a los creyentes al enviarles un Mensajero de entre ellos mismos que les recita Sus versículos, los purifica y les enseña el Corán y la sabiduría [de la Sunnah]. Porque antes se encontraban en un claro extravío.
به راستی، الله بر مؤمنان منت نهاد که میان آنان پیامبری از خودشان برانگیخت تا آیات او [= قرآن] را برایشان بخوانَد و [از گناه] پاکشان گردانَد و به آنان کتاب [= قرآن] و حکمت [= سنت] بیاموزد؛ و قطعاً پیش از آن، در گمراهی آشکاری بودند.
Allah hat den Gläubigen wirklich eine Wohltat erwiesen, als Er unter ihnen einen Gesandten von ihnen selbst geschickt hat, der ihnen Seine Zeichen verliest, und sie läutert und sie das Buch und die Weisheit lehrt, obgleich sie sich zuvor wahrlich in deutlichem Irrtum befanden.
安拉确已施恩于信士们,因为他曾在他们中派遣了一个同族的使者,对他们宣读他的迹象,并且熏陶他们,教授他们天经和智慧,以前,他们确是在明显的迷误中的。