إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوْقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۖ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ٥٥
الترجمات
[Mention] when Allāh said, "O Jesus, indeed I will take you and raise you to Myself and purify [i.e., free] you from those who disbelieve and make those who follow you [in submission to Allāh alone] superior to those who disbelieve until the Day of Resurrection. Then to Me is your return, and I will judge between you concerning that in which you used to differ.
Lembra-lhes, Muhammad, de quando Allah disse: "Ó Jesus! Por certo, findarei teus dias na terra e ascender-te-ei até Mim e apartar-te-ei dos que renegam a Fé e farei estar os que te seguiram acima dos que renegam a Fé até o Dia da Ressurreição. Em seguida, a Mim será vosso retorno. E julgarei entre vós, naquilo de que discrepáveis.
アッラー*が、(こう)仰せられた時のこと(を思い起こさせよ)。「イーサー*よ、本当にわれはあなたを召し、あなたをわれの許に上げ、不信仰に陥った者*たちから清める[1]者である。また、あなたに従った者たちを、復活の日*まで不信仰に陥った者*たちに優越させる者である。それから(清算の日)、われにこそ、あなた方の戻り所がある。そしてわれは、あなた方が(イーサー*において)意見を異にしていたことにおいて、あなた方の間に裁定を下すのだ。
[1] イーサー*は死ぬことなく、アッラー*の御許(みもと)へと召された(前掲書、同頁参照)。婦人章157‐159とその訳注も参照。
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے واﻻ ہوں[1] اور تجھے اپنی جانب اٹھانے واﻻ ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے واﻻ ہوں[2] اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر غالب کرنے واﻻ ہوں قیامت کے دن تک[3]، پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا
[1] المتوفی کا مصدر توفی اور مادہ وفی ہے جس کے اصل معنی پورا پورا لینے کے ہیں، انسان کی موت پر جو وفات کا لفظ بولا جاتا ہے تو اسی لئے کہ اس کے جسمانی اختیارات مکمل طور پر سلب کر لئے جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے موت اس کے معنی کی مختلف صورتوں میں سے محض ایک صورت ہے۔ نیند میں بھی چونکہ انسانی اختیارات عارضی طور پرمعطل کر دیئے جاتے ہیں اس لئے نیند پر بھی قرآن نے وفات کے لفظ کا اطلاق کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ اس کے حقیقی اور اصل معنی پورا پورا لینے کے ہی ہیں۔ «إِنِّي مُتَوَفِّيكَ» میں یہ اسی اپنے حقیقی اور اصلی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی میں اے عیسیٰ (عليه السلام) تجھے یہودیوں کی سازش سے بچا کر پورا پورا اپنی طرف آسمانوں پر اٹھالوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور بعض نے اس کے مجازی معنی کےشہرت استعمال کے مطابق موت ہی کے معنی کئے ہیں لیکن اس کے ساتھ انہوں نے کہا ہے کہ الفاظ میں تقدیم وتاخیر ہے یعنی رافعک (میں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں) کے معنی مقدم ہیں اور مُتَوَفِّيكَ (فوت کرنے والا ہوں) کے معنی متاخر، یعنی میں تجھے آسمان پر اٹھالوں گا اور پھر جب دوبارہ دنیا میں نزول ہوگا تو اس وقت موت سے ہمکنار کروں گا۔ یعنی یہودیوں کے ہاتھوں تیرا قتل نہیں ہوگا بلکہ تجھے طبعی موت ہی آئے گی۔ (فتح القدیر وابن کثیر) [2] اس سے مراد ان الزامات سے پاکیزگی ہے جن سے یہودی آپ کو متہم کرتے تھے، نبی (صلى الله عليه وسلم) کے ذریعے سے آپ کی صفائی دنیا کے سامنے پیش کر دی گئی۔ [3] اس سے مراد یا تو نصاریٰ کا وہ دنیاوی غلبہ ہے جو یہودیوں پر قیامت تک رہے گا، گو وہ اپنے غلط عقائد کی وجہ سے نجات اخروی سے محروم ہی رہیں گے۔ یا امت محمدیہ کے افراد کا غلبہ ہے جو درحقیقت حضرت عیسیٰ (عليه السلام) اور دیگر تمام انبیا کی تصدیق کرتے اور ان کے صحیح اور غیر محرف دین کی پیروی کرتے ہیں۔
(Ingatlah), ketika Allah berfirman, "Wahai Isa! Aku mengambilmu dan mengangkatmu kepada-Ku, serta menyucikanmu dari orang-orang yang kafir, dan menjadikan orang-orang yang mengikutimu di atas orang-orang yang kafir hingga hari Kiamat. Kemudian kepada-Ku engkau kembali, lalu Aku beri keputusan tentang apa yang kamu perselisihkan."
Allah, İsa’ya şöyle buyurmuştu: "Ey İsa! Seni vefat ettireceğim ve seni kendime yükselteceğim. Kâfirlerden seni tertemiz kurtaracağım. Sana tabi olanları kıyamet gününe kadar inkâr edenlerin/kâfirlerin üstünde tutacağım. Sonra bana döneceksiniz. Sizin aranızda, hakkında ihtilaf ettiğiniz konularda hüküm vereceğim."
Allah dit : « Jésus ! Je vais te reprendre à la terre[15], t’élever auprès de Moi, te délivrer de ceux qui t’ont renié et placer, jusqu’au Jour de la résurrection, les mécréants sous la domination de ceux qui te sont fidèles. C’est vers Moi ensuite que se fera votre retour, Je trancherai alors vos différends.
[15] Ou : te plonger dans un profond sommeil.
55. Cuando Dios dijo: “¡Oh, Jesús! Te haré morir [algún día como a todos, pero ahora] te ascenderé a Mí. Te libraré de los que rechazan la verdad y haré prevalecer a los que te han seguido por sobre los incrédulos hasta el Día de la Resurrección. Luego, todos volverán a Mí para que juzgue entre ustedes sobre lo que discrepaban.
[یاد کن از] هنگامی که الله [به عیسی] فرمود: «ای عیسی، من تو را [از زمین] برمیگیرم و به سوی خویش بالا میبرم و تو را از [آلایش و تهمتِ] کسانی که کفر ورزیدند، پاک میگردانم و تا روز رستاخیز، کسانی را که از تو پیروی کردند [و به محمد ایمان آوردند]، برتر از کسانی قرار میدهم که کفر ورزیدند. سپس بازگشتتان به سوی من است؛ آنگاه در [مورد] آنچه در آن اختلاف میکردید، میانتان داوری میکنم.
Als Allah sagte: „O ’Isa, Ich werde dich (nunmehr) abberufen und dich zu mir emporheben und dich von denen, die ungläubig sind, reinigen und diejenigen, die dir folgen, bis zum Tag der Auferstehung über diejenigen stellen, die ungläubig sind. Hierauf wird eure Rückkehr zu Mir sein, und dann werde Ich zwischen euch richten über das, worüber ihr uneinig zu sein pflegtet.
当时,安拉对尔撒说:“我必定要使你寿终,要把你擢升到我那里,要为你洗清不信道者的诬蔑,要使跟随你的人,在不信道的人之上,直到复活日。然后,你们只归于我,我要为你们判决你们所争论的是非。