وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍۢ فَخُورٍۢ ١٨
الترجمات
And do not turn your cheek [in contempt] toward people[1164] and do not walk through the earth exultantly. Indeed, Allāh does not like everyone self-deluded and boastful.
[1164] Rather, respect them by directing your face and attention to them.
"E não voltes, com desdém, teu rosto aos homens, e não andes, com jactância, pela terra. Por certo, Allah não ama a nenhum presunçoso, vanglorioso."
また、あなたの頬を(高慢さから斜に構えて)人々に向けてはならず、大地を得意然として歩いてはならない。本当にアッラー*は尊大ぶった高慢ちきな者をお好みにはならないのだから。
لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا[1] اور زمین پر اترا کر نہ چل[2] کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا.
[1] یعنی تکبر نہ کر کہ لوگوں کو حقیر سمجھے اور جب وہ تجھ سے ہم کلام ہوں تو تو ان سے منہ پھیر لے۔ یا گفتگو کے وقت اپنا منہ پھیرے رکھے۔ صعر ایک بیماری ہے جو اونٹ کے سریا گردن میں ہوتی ہے۔ جس سےاس کی گردن مڑ جاتی ہے۔ یہاں بطور تکبر منہ پھیر لینے کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ (ابن کثیر)۔ [2] یعنی ایسی چال یا رویہ، جس سے مال ودولت یا جاہ ومنصب یا قوت وطاقت کی وجہ سے فخر وغرور کا اظہار ہوتا ہو، یہ اللہ کو ناپسند ہے، اس لئے کہ انسان ایک بندۂ عاجز وحقیر ہے، اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق عاجزی وانکساری ہی اختیار کیے رکھے اس سےتجاوز کرکے بڑائی کا اظہار نہ کرے کہ بڑائی صرف اللہ ہی کےلئے زیبا ہے جو تمام اختیارات کا مالک اور تمام خوبیوں کا منبع ہے۔ اسی لئے حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ ”وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا، جس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہوگا“۔ (مسند أحمد: 1/412، ترمذي، أبواب البر، ما جاء في الكبر) ”جو تکبر کے طور پر اپنے کپڑے کو کھینچتے (گھسیٹتے) ہوئے چلے گا، اللہ اس کی طرف (قیامت والے دن) نہیں دیکھے گا“۔(مسند أحمد 5 / 9، 10 وانظر البخاري، كتاب اللباس) تاہم تکبر کا اظہار کیے بغیر اللہ کے انعامات کا ذکر یا اچھا لباس اور خوراک وغیرہ کا استعمال جائز ہے۔
Dan janganlah kamu memalingkan wajah dari manusia (karena sombong) dan janganlah berjalan di bumi dengan angkuh. Sungguh, Allah tidak menyukai orang-orang yang sombong dan membanggakan diri.
İnsanlara yüzünü çevirme ve yeryüzünde böbürlenerek yürüme. Çünkü Allah kendini beğenip böbürlenen hiçbir kimseyi sevmez.
Garde-toi d’afficher de l’arrogance ou de marcher avec insolence. Allah n’aime pas tout être orgueilleux et prétentieux.
18. No rechaces a la gente y no andes por la Tierra como un arrogante. Dios no ama a los presumidos ni a los engreídos.
و [از روی غرور و تکبر] از مردم روی نگردان و مغرورانه در زمین راه نرو. به راستی که الله هیچ متکبر فخرفروشی را دوست ندارد.
Und zeige den Menschen nicht geringschätzig die Wange und gehe nicht übermütig auf der Erde einher, denn Allah liebt niemanden, der eingebildet und prahlerisch ist.
你不要为藐视众人而转脸,不要洋洋得意地在大地上行走。安拉确是不喜爱一切傲慢者、矜夸者的。