يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍۢ كَانَ مِقْدَارُهُۥٓ أَلْفَ سَنَةٍۢ مِّمَّا تَعُدُّونَ ٥
الترجمات
He arranges [each] matter from the heaven to the earth; then it will ascend to Him in a Day, the extent of which is a thousand years of those which you count.
Ele administra a ordem, do céu para a terra; em seguida, tudo ascende a Ele, em um dia, cuja duração é de mil anos, dos que contais.
かれは天から地まで(創造物の)物事を司られ、やがてそれは、あなた方が(現世で)数える千年の長さに相当する日*、かれの御許へ昇っていく。[1]
[1] この「日」は「アッラー*のご命令が下り、また昇っていくまでの期間」とも、または復活の日*のことであるとも言われる(アッ=シャンキーティ6:183-184)。巡礼*章47、離婚章12、階段章4も参照。
وه آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے[1] ۔ پھر (وه کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازه تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے.[2]
[1] آسمان سے، جہاں اللہ کا عرش اور لوح محفوظ ہے، اللہ تعالیٰ زمین پر احکام نازل فرماتا یعنی تدبیر کرتا اور زمین پر ان کا نفاذ ہوتا ہے۔ جیسے موت اور زندگی، صحت اور مرض، عطا اور منع، غنا اور فقر، جنگ اور صلح، عزت اور ذلت، وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر سے اپنی تقدیر کے مطابق یہ تدبیریں اور تصرفات کرتا ہے۔ [2] یعنی پھر اس کی یہ تدبیر یا امر اس کی طرف واپس لوٹتا ہے ایک ہی دن میں، جسےفرشتے لے کر جاتے ہیں اور صعود (چڑھنے) کا یا آنےجانے کا فاصلہ اتنا ہے کہ غیر فرشتہ ہزار سال میں طے کرے۔ یا اس سے قیامت کا دن مراد ہے کہ اس دن انسانوں کے سارے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ اس (یوم) کی تعیین وتفسیر میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ امام شوکانی نے 16،15 اقوال اس ضمن میں ذکر کیے ہیں اس لئے حضرت ابن عباس نے اس کے بارے میں توقف کو پسند فرمایا اور اس کی حقیقت کو اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔ صاحب ایسر التفاسیر کہتے ہیں کہ قرآن میں یہ تین مقامات پر آیا ہے اور تینوں جگہ الگ الگ دن مراد ہے۔ سورۂ حج (آیت۔ 47) میں ”یوم“ کا لفظ عبارت ہے اس زمانہ اور مدت سے جو اللہ کے ہاں ہے اور سورۂ معارج میں، جہاں یوم کی مقدار پچاس ہزار سال بتلائی گئی ہے، یوم حساب مراد ہے اور اس مقام (زیر بحث) میں یوم سے مراد دنیا کا آخری دن ہے، جب دنیا کے تمام معاملات فنا ہو کر اللہ کی طرف لوٹ جائیں گے۔
Dia mengatur segala urusan dari langit ke bumi, kemudian (urusan) itu naik kepada-Nya[656] dalam satu hari yang kadarnya (lamanya) adalah seribu tahun menurut perhitunganmu.
[656] Beritanya yang dibawa oleh malaikat. Ayat ini suatu tamsil bagi kebesaran Allah dan keagungan-Nya.
Gökten yere kadar bütün işleri Allah yürütür. Sonra bu işler, süresi sizin hesabınızla bin yıl olan bir günde O’na yükselir.
Ses commandements[2] descendent du ciel jusqu’à la terre avant de remonter vers Lui en un jour équivalant à mille ans selon votre manière de compter[3].
[2] Ses décrets et Sa révélation. [3] Ou : votre notion du temps.
5. [Dios] decreta todos los asuntos desde el cielo a la Tierra, que luego ascienden a Él en un día que equivale a mil años de los que ustedes cuentan.
کار [جهان هستی] را از آسمان تا زمین تدبیر میکند. آنگاه در روزی که بلندیاش، به حساب شما [انسانها] هزار سال است، [این کارها] به سوی او بالا میرود.
Er regelt die Angelegenheit vom Himmel bis zur Erde. Hierauf steigt sie zu Ihm auf an einem Tag, dessen Maß tausend Jahre nach eurer Berechnung sind.
他治理自天至地的事物,然后那件事在一日之内升到他那里,那一日的长度,是你们所计算的一千年。