يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍۢ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ٥٩
الترجمات
O you who have believed, obey Allāh and obey the Messenger and those in authority among you. And if you disagree over anything, refer it to Allāh and the Messenger, if you should believe in Allāh and the Last Day. That is the best [way] and best in result.
Ó vós que credes! Obedecei a Allah e obedecei ao Mensageiro e às autoridades dentre vós. E se disputais por algo, levai-o a Allah e ao Mensageiro, se sois crentes em Allah e no Derradeiro Dia. Isso é melhor e mais belo, em interpretação.[1]
[1] Este versículo é fundamento primeiro da constituição do estado islâmico e determina a base da religião e da disciplina política.
信仰する者たちよ、アッラー*に従い、そして使徒*と、あなた方の内の長たち[1]に従え。そして、あなた方が何かで争った時には、それ(についての裁定)をアッラー*と使徒*(ムハンマド*)に返すのだ[2]。もしあなた方が、アッラー*と最後の日*を信仰しているのならば、である。それが最善なのであり、最良の帰結なのだ。
[1] 「あなた方の内の長たち」とは、指導者・統治者・イスラーム*法学者など、人々の諸事を司(つかさど)る者たち。ただし、彼らへの服従義務は、罪深いことではないことに限る(アッ=サァディー183頁参照)。アーヤ*34の、「従順」についての訳注も参照。 [2] つまりクルアーン*と預言者*のスンナ*。しかしどのようにその二つを参照するかという知識は、学者に属する(アル=クルトゥビー5:260参照)。
اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی[1] ۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے[2]۔
[1] ”اولو الامر“ (اپنے میں سے اختیار والے) سے مراد بعض کے نزدیک امرا وحکام اور بعض کے نزدیک علماء وفقہاء ہیں مفہوم کے اعتبار سے دونوں ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اصل اطاعت تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے کیونکہ ”أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ“ ( الاعراف: 54) خبردار مخلوق بھی اسی کی ہے، حکم بھی اسی کا ہے ”إِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ“ (يوسف: 40) حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ لیکن چونکہ رسول (صلى الله عليه وسلم) منشاء الٰہی ہی کا مظہر اور اس کی مرضیات کا نمائندہ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ رسول (صلى الله عليه وسلم) کے حکم کو بھی مستقل طور پر واجب الاطاعت قرار دیا اور فرمایا کہ رسول (صلى الله عليه وسلم) کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے۔ ”مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ“ (النساء: 80) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حدیث بھی اسی طرح دین کا ماخذ ہے جس طرح قرآن کریم۔ تاہم امراء وحکام کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ کیونکہ وہ یا تو اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کے احکام کا نفاذ کرتے ہیں یا امت کے اجتماعی مصالح کا انتظام اور نگہداشت کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ امرا وحکام کی اطاعت اگرچہ ضروری ہے لیکن وہ علی الاطلاق نہیں بلکہ مشروط ہے اللہ ورسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کے ساتھ۔ اسی لئے ”أَطِيعُوا اللهَ“ کے بعد ”أَطِيعُوا الرَّسُولَ“ تو کہا کیونکہ یہ دونوں اطاعتیں مستقل اور واجب ہیں لیکن ”أَطِيعُوا أُولِي الأَمْر“ ِنہیں کہا کیونکہ أُولِي الأَمْرِکی اطاعت مستقل نہیں اور حدیث میں بھی کہا گیا ہے ”لا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيةِ الْخَالِقِ“ (وقال الألباني حديث صحيح- مشكاة نمبر 3696، في لفظ لمسلم: ”لا طاعة في معصية الله“، كتاب الإمارة باب وجوب طاعة الأمر في غير معصية حديث نمبر 1840، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ) (صحيح بخاري كتاب الأحكام باب نمبر 4) ”السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ لِلإِمَامِ مَا لَمْ تَكُنْ مَعْصِيَةً“ معصیت میں اطاعت نہیں، اطاعت صرف معروف میں ہے۔ یہی حال علماء وفقہاء کا بھی ہے۔ (اگر اولو الامر میں ان کو بھی شامل کر لیا جائے) یعنی ان کی اطاعت اس لئے کرنی ہوگی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام وفرمودات بیان کرتے ہیں اور اس کے دین کی طرف ارشاد وہدایت اور رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ علماء وفقہاء بھی دینی امور ومعاملات میں حکام کی طرح یقیناً مرجعِ عوام ہیں۔ لیکن ان کی اطاعت بھی صرف اس وقت تک کی جائے گی جب تک کہ عوام کو صرف اللہ اور اس کے رسول (صلى الله عليه وسلم) کی بات بتلائیں لیکن اگر وہ اس سے انحراف کریں تو عوام کے لئے ان کی اطاعت بھی ضروری نہیں بلکہ انحراف کی صورت میں جانتے بوجھتے ان کی اطاعت کرنا سخت معصیت اور گناہ ہے۔ [2] اللہ کی طرف لوٹانے سے مراد، قرآن کریم اور الرسول (صلى الله عليه وسلم) سے مراد اب حدیث رسول ہے۔ یہ تنازعات کے ختم کرنے کے لئے ایک بہترین اصول بتلا دیا گیا ہے۔ اس اصول سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی تیسری شخصیت کی اطاعت واجب نہیں۔ جس طرح تقلید شخصی یا تقلید معین کے قائلین نے ایک تیسری اطاعت کو واجب قرار دے رکھا ہے اور اسی تیسری اطاعت نے، جو قرآن کی اس آیت کے صریح مخالف ہے، مسلمانوں کو امت متحدہ کی بجائے امت منتشرہ بنا رکھا ہے اور اس کے اتحاد کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔
Wahai orang-orang yang beriman! Taatilah Allah dan taatilah Rasul (Muhammad), dan Ulil Amri (pemegang kekuasaan)[203] di antara kamu. Kemudian, jika kamu berbeda pendapat tentang sesuatu, maka kembalikanlah kepada Allah (Al-Qur`an) dan Rasul (sunahnya), jika kamu beriman kepada Allah dan hari kemudian. Yang demikian itu, lebih utama (bagimu) dan lebih baik akibatnya.
[203] Selama pemegang kekuasaan berpegang pada Kitab Allah dan Sunah Rasul.
Ey iman edenler! Allah’a itaat edin. Peygamber’e itaat edin ve sizden olan ulu’l-emre (idarecilere) de. Herhangi bir hususta anlaşmazlığa düştüğünüz takdirde, Allah’a ve ahiret gününe gerçekten inanıyorsanız, onu Allah ve Rasûlüne arz edin. Bu, daha iyidir. Sonuç bakımından da daha güzeldir.
Vous qui croyez ! Obéissez à Allah, obéissez au Messager et à ceux d’entre vous qui exercent l’autorité. En cas de désaccord, vous devrez vous en remettre au jugement d’Allah et du Messager, si vous croyez vraiment en Allah et au Jour dernier. Voilà la meilleure conduite à adopter, celle dont les suites seront les plus heureuses.
59. ¡Oh, creyentes! Obedezcan a Dios, obedezcan al Mensajero y a aquellos de ustedes que tengan autoridad y conocimiento. Si realmente creen en Dios y en el Día del Juicio, cuando tengan discrepancias remítanlas al juicio de Dios y del Mensajero, porque en ello hay bien y es el camino correcto[1].
[1] Dijo el exégeta Ibn Kazir: “Dijo Muyahid al igual que muchos de los Salaf: ‘Es decir, al Corán y la Sunnah de Su Mensajero, lo que es un mandato de Dios ante cualquier asunto por el que disputen las personas, ya sea en los fundamentos de la religión o en sus ciencias auxiliares, se debe remitir la disputa al Corán y la Sunnah’”. El Profeta r dijo: “Les he dejado dos referencias, nunca se desviarán si se aferran a ellas: el Libro de Dios y la tradición de Su Profeta”. Registrado por Ahmad. Este versículo establece que la obediencia a Dios y a Su Mensajero es absoluta, pero que la obediencia a las personas de autoridad y conocimiento es relativa, y es debida siempre que no contradiga los principios establecidos en el Corán y la Sunnah.
ای کسانی که ایمان آوردهاید، از الله و پیامبر و کارگزاران [و فرماندهان مسلمانِ] خود اطاعت کنید و اگر در چیزی اختلاف کردید، آن را به [کتاب] الله و [سنت] پیامبر بازگردانید. اگر به الله و روز قیامت ایمان دارید، [یقین داشته باشید که] این [بازگشت به قرآن و سنت، برایتان] بهتر و خوشفرجامتر است.
O die ihr glaubt, gehorcht Allah und gehorcht dem Gesandten und den Befehlshabern unter euch! Wenn ihr miteinander über etwas streitet, dann bringt es vor Allah und den Gesandten, wenn ihr wirklich an Allah und den Jüngsten Tag glaubt. Das ist am besten und am ehesten ein guter Ausgang.
信道的人们啊!你们当服从安拉,应当服从使者和你们中的主事人,如果你们为一件事而争执,你们使那件事归安拉和使者(判决),如果你们确信安拉和末日的话。这对于你们是裨益更多的,这也是最美好的解释。