وَيَوْمَ يُعْرَضُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَٰتِكُمْ فِى حَيَاتِكُمُ ٱلدُّنْيَا وَٱسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَٱلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ ٱلْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ ٢٠
الترجمات
And the Day those who disbelieved are exposed to the Fire [it will be said], "You exhausted your pleasures during your worldly life and enjoyed them, so this Day you will be awarded the punishment of [extreme] humiliation because you were arrogant upon the earth without right and because you were defiantly disobedient."
E, um dia, quando os que renegam a Fé forem expostos ao Fogo, dir-se-lhes-á: "Fizestes irem-se vossas boas cousas, em vossa vida terrena e, com elas, vos deliciastes. Então, hoje, sereis recompensados com o castigo da vileza, porque vos ensoberbecíeis, na terra, sem razão, e porque cometíeis perversidade."
不信仰だった者*たちが、業火に晒される日。(彼らには、こう言われる。)「あなた方は、現世のあなた方の生活における自分たちの善きもの[1]とおさらばし、それを楽しんだ。だからこの日あなた方は、自分たちが地上で(アッラー*への信仰と服従に反して)不当にも奢り高ぶっていたことと、放逸だったことゆえに、屈辱の罰で報われるのだ」。
[1] この「善きもの」とは、アッラー*の法に反した形での、欲望や快楽(アル=クルトゥビー16:200参照)。
اور جس دن کافر جہنم کے سرے پر ﻻئے جائیں گے[1] (کہا جائے گا) تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کر دیں اور ان سے فائدے اٹھا چکے، پس آج تمہیں ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی[2]، اس باعﺚ کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس باعﺚ بھی کہ تم حکم عدولی کیا کرتے تھے.[3]
[1] یعنی اس وقت کو یاد کرو، جب کافروں کی آنکھوں سے پردے ہٹا دیئے جائیں گے اور وہ جہنم کی آگ دیکھ رہے یا اس کے قریب ہوں گے۔ بعض نے يُعْرَضُونَ کے معنی يُعَذَّبُونَ کے کیے ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کلام میں قلب ہے۔ مطلب ہے جب آگ ان پر پیش کی جائے گی تُعْرَضُ النَّارُ عَلَيْهِمْ (فتح القدير)۔ [2] طَيِّبَاتٌ سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان ذوق وشوق سے کھاتے پیتے اور استعمال کرتے اور لذت وفرحت محسوس کرتے ہیں۔ لیکن آخرت کی فکر کے ساتھ ان کا استعمال ہو تو بات اور ہے، جیسے مومن کرتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ احکام الٰہی کی اطاعت کرکے شکر الٰہی کا بھی اہتمام کرتا رہتا ہے۔ لیکن فکر آخرت سے بے نیازی کےساتھ ان کا استعمال انسان کو سرکش اور باغی بنا دیتا ہے جیسے کافر کرتا ہے اور یوں وہ اللہ کی ناشکری کرتا ہے۔ چنانچہ مومن کو تو اس کے شکر واطاعت کی وجہ سے یہ نعمتیں بلکہ اس سے بدر جہا بہتر نعمتیں آخرت میں پھر مل جائیں گی۔ جب کہ کافروں کو وہی کچھ کہا جائے گا جو یہاں آیت میں مذکور ہے۔ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ . . . . کا دوسرا ترجمہ ہے دنیا کی زندگی میں تم نے اپنے مزے اڑا لیے اور خوب فائدہ اٹھا لیا۔ [3] ان کے عذاب کے دو سبب بیان فرمائے، ناحق تکبر، جس کی بنیاد پر انسان حق کا اتباع کرنے سے گریز کرتا ہے اور دوسرا فسق۔ بے خوفی کے ساتھ معاصی کا ارتکاب۔ یہ دونوں باتیں تمام کافروں میں مشترکہ ہوتی ہیں۔ اہل ایمان کو ان دونوں باتوں سے اپنا دامن بچانا چاہئے۔ ملحوظة۔ بعض صحابہ کرام (رضي الله عنهم) کےبارے میں آتا ہے کہ ان کے سامنے عمدہ وغیرہ آتی تو یہ آیت انہیں یاد آجاتی اور وہ اسے ڈر سےاسے ترک کر دیتے کہ کہیں آخرت میں ہمیں بھی یہ نہ کہہ دیا جائے کہ تم نے اپنے مزے دنیا میں لوٹ لیے۔ تو یہ ا ن کی وہ کیفیت ہے جو غایت ورع اور زہد وتقویٰ کی مظہر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اچھی نعمتوں کا استعمال وہ جائز نہیں سمجھتے تھے۔
Dan (ingatlah) pada hari (ketika) orang-orang kafir dihadapkan ke neraka (seraya dikatakan kepada mereka), "Kamu telah menghabiskan (rezeki) yang baik untuk kehidupan duniamu, dan kamu telah bersenang-senang (menikmati)nya; maka pada hari ini kamu dibalas dengan azab yang menghinakan, karena kamu sombong di bumi tanpa mengindahkan kebenaran, dan karena kamu berbuat durhaka (tidak taat kepada Allah)."
Kâfirler, ateşe sunulduğu gün: "Dünya hayatınızda bütün iyiliklerinizi yitirdiniz. Onlardan isteğiniz gibi faydalandınız. Bugün ise, dünyada haksız yere büyüklenmeniz ve fasıklık yapmanız sebebiyle alçaltıcı bir azap ile cezalandırılacaksınız." denir.
Le Jour où les impies seront exposés au Feu, il leur sera dit : « Vous avez joui sans retenue de tous les plaisirs de la vie. Vous subirez donc aujourd’hui le châtiment le plus humiliant pour vous être élevés sans raison sur terre et avoir vécu dans la désobéissance. »
20. El día que los que se negaron a creer sean expuestos al Infierno se les dirá: “Consumieron las gracias que se les concedió en la vida mundanal dedicándose solo a los placeres. Hoy recibirán un castigo humillante por haber sido soberbios en la Tierra sin derecho alguno, y por haber sido desobedientes [a Dios]”.
روزى كه کافران بر آتش عرضه مىشوند، [به آنان خطاب مىشود:] «نعمتهای پاكیزۀ خود را در زندگی دنیا از بین بردید و از آنها بهرهمند شدید؛ پس امروز به خاطر برتریجوییِ ناحق و انحرافی كه در زمین داشتید، با عذابى خفتبار مجازات مىشوید».
Und am Tag, da diejenigen, die ungläubig sind, dem (Höllen)feuer vorgeführt werden: Ihr habt eure guten Dinge im diesseitigen Leben dahingehen lassen und sie genossen. Heute wird euch mit der schmählichen Strafe vergolten, daß ihr euch auf der Erde ohne Recht hochmütig zu verhalten und daß ihr zu freveln pflegtet.
不信道的人们遭受火刑之日,或者将对他们说:“你们在尘世生活中,已将你们的福分消尽享完;今日你们应受凌辱的刑罚,因为你们曾在地方上妄自尊大,也因为你们曾经犯罪。”