يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوٓا۟ إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ١١
الترجمات
O you who have believed, remember the favor of Allāh upon you when a people determined to extend their hands [in aggression] against you, but He withheld their hands from you; and fear Allāh. And upon Allāh let the believers rely.
Ó vós que credes! Lembrai-vos da graça de Allah para convosco, quando um grupo[1] intentou estender as mãos contra vós, e Ele lhe deteve as mãos, afastando-as de vós. E temei a Allah. E que em Allah, confiem os crentes.
[1] Um grupo: os Quraich.
信仰する者たちよ、あなた方に対するアッラー*の恩恵を思い起こすのだ。ある民があなた方に(支配の)その手を伸ばそうとし、それでかれが、その手をあなた方から阻まれた時のことを。そしてアッラー*を畏れ*よ。信仰者たちには、アッラー*にこそ全てを委ね*させるのだ。
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا ہے اسے یاد کرو جب کہ ایک قوم نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے روک دیا[1] اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔
[1] اس کی شان نزول میں مفسرین نے متعدد واقعات بیان کئے ہیں۔ مثلاً اس اعرابی کا واقعہ کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) ایک سفر سے واپسی پر ایک درخت کے سائے میں آرام فرما تھے، تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی۔ اس اعرابی نے تلوار پکڑ کر آپ (صلى الله عليه وسلم) پر سونت لی اور کہنے لگا۔ اے محمد! (صلى الله عليه وسلم) آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے بلا تامل فرمایا ”اللہ“ (یعنی اللہ بچائے گا) یہ کہنا تھا کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ بعض کہتے ہیں کہ کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) اور آپ کے اصحاب کے خلاف، جب کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) وہاں تشریف فرما تھے، دھوکہ اور فریب سے نقصان پہنچانے کی سازش تیار کی تھی، جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کوبچایا۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کے ہاتھوں غلط فہمی سے جو دو عامری شخص قتل ہوگئے تھے، ان کی دیت کی ادائیگی میں یہودیوں کے قبیلے بنونضیر سے حسب معاہدہ جو تعاون لینا تھا، اس کے لئے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) اپنے رفقا سمیت وہاں تشریف لے گئے اور ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے یہ سازش تیار کی کہ اوپر سے چکی کا پتھر آپ (صلى الله عليه وسلم) پر گرا دیا جائے، جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو بذریعہ وحی مطلع فرما دیا۔ ممکن ہے کہ ان سارے ہی واقعات کے بعد یہ آیت نازل ہوئی ہو۔ کیونکہ ایک آیت کے نزول کے کئی اسباب و عوامل ہوسکتے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر، ایسرالتفاسیر و فتح القدیر)
Wahai orang-orang yang beriman! Ingatlah nikmat Allah (yang diberikan) kepadamu, ketika suatu kaum bermaksud hendak menyerangmu dengan tangannya, lalu Allah menahan tangan mereka dari kamu. Dan bertakwalah kepada Allah, dan hanya kepada Allahlah hendaknya orang-orang beriman itu bertawakal.
Ey iman edenler! Allah’ın üzerinizdeki nimetini düşünün. Hani bir topluluk size (saldırmak için) elini uzatmıştı da Allah onların ellerini sizden çekmişti. Allah’tan sakının/takvalı olun. Müminler ancak Allah’a tevekkül etsinler.
Vous qui croyez ! Souvenez-vous des bienfaits d’Allah qui vous a protégés d’un peuple qui avait projeté de vous attaquer. Craignez donc Allah. C’est à Allah seul que les croyants doivent s’en remettre.
11. ¡Oh, creyentes! Recuerden las bendiciones que Dios les concedió cuando sus enemigos intentaron agredirlos pero Dios los protegió. Tengan temor de Dios, y que los creyentes solo se encomienden a Dios.
ای کسانی که ایمان آوردهاید، نعمتِ الله را بر خود به یاد آورید، آنگاه که گروهی [از دشمنان] قصد کردند به سویتان دستدرازی کنند، اما [الله] دستشان را از شما بازداشت؛ و از الله پروا کنید؛ و مؤمنان باید تنها بر الله توکل کنند.
O ihr, die ihr glaubt, gedenkt Allahs Gunst an euch, (damals) als (gewisse) Leute vorhatten, ihre Hände nach euch auszustrecken, worauf Er ihre Hände von euch zurückhielt. Und fürchtet Allah. Und auf Allah sollen sich die Gläubigen verlassen.
信道的人们啊!你们当铭记安拉所赐你们的恩典。当时有一伙人欲对你们施展武力,但安拉为你们抵御他们的武力;你们当敬畏安拉。教信士们只托靠安拉。