قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحْزُنُكَ ٱلَّذِى يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ ٣٣
الترجمات
We know that you, [O Muḥammad], are saddened by what they say. And indeed, they do not call you untruthful, but it is the verses of Allāh that the wrongdoers reject.
Com efeito, sabemos que o certo, não é a ti que desmentem, mas é aos sinais de Allah que os injustos negam.
われら*は、本当に彼らの言うことがあなたを悲しませることを、確かに知っている。(だが、悲しむのではない。)というのも、彼らは(確信をもって)あなたを嘘つき呼ばわりしているのではないのだ。だが不正*者たちはアッラー*の御徴を、否定しているのである[1]。
[1] 彼らは、預言者*となる前から「信頼のおける人」という名で呼ばれていたムハンマド*自身のことではなく、彼に啓示されたアーヤ*のことを嘘よばわりしていた(アッ=サァディー254頁参照)。
ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ﻇالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔[1]
[1] نبی (صلى الله عليه وسلم) کو کفار کی طرف اپنی تکذیب کی وجہ سے جو غم وحزن پہنچتا، اس کے ازالے اور آپ کی تسلی کے لئے فرمایا جارہا ہے کہ یہ تکذیب آپ کی نہیں۔ (آپ کو تو وہ صادق وامین مانتے ہیں) دراصل یہ آیات الٰہی کی تکذیب ہے اوریہ ایک ظلم ہے۔ جس کا وہ ارتکاب کر رہے ہیں۔ ترمذی وغیرہ کی ایک روایات میں ہے کہ ابوجہل نے ایک بار رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سے کہا اے محمد! ہم تم کو نہیں بلکہ جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کو جھٹلاتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ترمذی کی یہ راویت اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن دوسری صحیح روایات سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ کفار مکہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی امانت ودیانت اور صداقت کے قائل تھے، لیکن اس کے باوجود وہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے سے گریزاں رہے۔ آج بھی جو لوگ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے حسن اخلاق، رفعت کردار اور امانت وصداقت کو تو خوب جھوم جھوم کر بیان کرتے اور اس موضوع پر فصاحت وبلاغت کے دریا بہاتے ہیں لیکن اتباع رسول (صلى الله عليه وسلم) میں وہ انقباض محسوس کرتے آپ کی بات کے مقابلے میں فقہ وقیاس اور اقوال ائمہ کو ترجیح دیتے ہیں، انہیں سوچنا چاہیئے کہ یہ کس کا کردار ہے جسے انہوں نے اپنایا ہوا ہے؟
Sungguh, Kami mengetahui bahwa apa yang mereka katakan itu menyedihkan hatimu (Muhammad), (janganlah bersedih hati) karena sebenarnya mereka bukan mendustakanmu, tetapi orang zalim itu mengingkari ayat-ayat Allah.
Onların söylediklerinin seni üzdüğünü elbette biliyoruz. Fakat onlar seni yalanlamıyorlar. O zalimler, bile bile Allah’ın ayetlerini inkâr ediyorlar.
Nous savons à quel point leurs paroles t’affligent. Mais, au fond, ce n’est pas ta sincérité qu’ils contestent, mais ce sont bien les signes d’Allah que les impies rejettent[8].
[8] Par entêtement et jalousie, précisent certains exégètes.
33. Sé muy bien que te apena lo que dicen [sobre ti]. Pero no es a ti a quien desmienten, lo que los injustos rechazan es la palabra de Dios.
[ای پیامبر،] به یقین ما مىدانیم كه آنچه [مشرکان] مىگویند، تو را سخت غمگین مىكند. در واقع، آنان [در دل،] تو را تكذیب نمىكنند؛ بلکه ستمكاران [با آنکه حقیقت را میدانند] آیاتِ الله را انكار مىكنند.
Wir wissen wohl, daß dich das, was sie sagen, in der Tat traurig macht. Aber nicht dich bezichtigen sie (in Wirklichkeit) der Lüge, sondern die Zeichen Allahs verleugnen die(se) Ungerechten.
我确已知道,他们所说的话必使你悲伤。他们不是在否认你,那些不义的人,是在否认安拉的迹象。