وَلِلَّهِ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا۟ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِىٓ أَسْمَٰٓئِهِۦ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٨٠
الترجمات
And to Allāh belong the best names, so invoke Him by them. And leave [the company of] those who practice deviation concerning His names.[425] They will be recompensed for what they have been doing.
[425] i.e., use them improperly or deny them.
E de Allah são os mais belos nomes: então, invocai-O com eles, e deixai os que profanam Seus nomes. Serão recompensados pelo que faziam.
アッラー*にこそ、美名は属する[1]。ならば、それによってかれに祈願するのだ。そして、かれの美名において(真理から)逸脱する者[2]たちは、放っておくがいい。彼らはいずれ、自分たちが行っていた(悪)事の応報を受けることになるのだから。
[1] 家畜でさえ、自分への害悪を見極(みきわ)め、その飼い主に従うのに、彼らはそれとは正反対であることのたとえ(ムヤッサル174頁参照)。 [2] 預言者*ムハンマド*は仰った。「アッラー*は九十九の美名がある。それを数え上げた者は、天国に入るであろう」(アル=ブハーリー6410参照)。しかし実際のところ、アッラー*の美名は九十九という数に限定されないとされる(イブン・カスィール3:515参照)。
اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو[1] اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں[2]، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔
[1] ”حُسْنَى“ أَحْسَنُ کی تانیث ہے ۔ اللہ کے ان اچھے ناموں سے مراد اللہ کے وہ نام ہیں جن سے اس کی مختلف صفات، اس کی عظمت وجلالت اور اس کی قدرت وطاقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ صحیحین کی حدیث میں ان کی تعداد 99 (ایک کم سو) بتائی گئی ۔ اور فرمایا کہ ”جو ان کو شمار کرے گا، جنت میں داخل ہوگا، اللہ تعالیٰ طاق ہے طاق کو پسند فرماتا ہے“۔ ( بخاري، كتاب الدعوات، باب لله مائة اسم غير واحد- مسلم، كتاب الذكر، باب في أسماء الله تعالى وفضل من أحصاها)، شمار کرنے کا مطلب ہے: ان پر ایمان لانا، یا ان کو گننا اور انہیں ایک ایک کرکے بطور تبرک اخلاص کے ساتھ پڑھنا، یا ان کا حفظ، ان کے معانی کا جاننا اور ان سے اپنے کو متصف کرنا۔ ( مرقاۂ شرح مشکوٰۂ ، کتاب الدعوات، باب اسماء اللہ تعالیٰ ) بعض روایات میں ان 99ناموں کو ذکر کیا گیا ہے لیکن یہ روایات ضعیف ہیں اور علما نے انہیں مدرج قرار دیا ہے یعنی راویوں کا اضافہ۔ وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی حدیث کا حصہ نہیں ہیں۔ نیز علما نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اللہ کے ناموں کی تعداد 99 میں منحصر نہیں ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔ (ابن کثیر وفتح القدیر)۔ [2] ”الحاد“ کے معنی ہیں کسی ایک طرف مائل ہونا۔ اسی سے لحد ہے جو اس قبر کو کہا جاتا ہے جو ایک طرف بنائی جاتی ہے۔ دین میں الحاد اختیار کرنے کا مطلب کج روی اور گمراہی اختیار کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد (کج روی) کی تین صورتیں ہیں۔ (1)۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں تبدیلی کر دی جائے ۔ جیسے مشرکین نے کیا ۔ مثلاً اللہ کے ذاتی نام سے اپنے ایک بت کا نام لات اور اس کے صفاتی ناموں عَزِيزٌ سے عُزَّى ٰبنا لیا۔ (2)۔ یا اللہ کے ناموں میں اپنی طرف سے اضافے کر لینا، جس کا حکم اللہ نے نہیں دیا۔ (3)۔ یا اس کے ناموں میں کمی کر دی جائے مثلاً اسے کسی ایک ہی مخصوص نام سے پکارا جائے اور دوسرے صفاتی ناموں سے پکارنے کو برا سمجھا جائے۔ (فتح القدیر) اللہ کے ناموں میں الحاد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان میں تاویل یا تعطیل یا تشبیہ سے کام لیا جائے (ایسر التفاسیر) جس طرح معتزلہ، معطلہ اور مشبہ وغیرہ گمراہ فرقوں کا طریقہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان سب سے بچ کر رہو۔
Dan Allah memiliki Asmāul Ḥusnā (nama-nama yang terbaik), maka bermohonlah kepada-Nya dengan menyebut Asmāul Ḥusnā itu dan tinggalkanlah orang-orang yang menyalahartikan nama-nama-Nya[351] Mereka kelak akan mendapat balasan terhadap apa yang telah mereka kerjakan.
[351] Jangan hiraukan orang-orang yang menyembah Allah dengan menyebut nama-nama yang tidak sesuai dengan sifat-sifat keagungan Allah, atau dengan memakai Asmāul Ḥusnā, tetapi dengan maksud menodai nama Allah atau mempergunakan Asmāul Ḥusnā untuk nama-nama selain Allah.
En güzel isimler Allah’ındır. O halde O’na bunlarla dua edin. O’nun isimlerinde eğriliğe sapanları terk edin. Onlar yapmakta olduklarının cezasını göreceklerdir.
C’est Allah qui possède les noms les plus sublimes. Invoquez-Le donc par ces noms et laissez ceux qui s’emploient à les profaner. Ils recevront la rétribution méritée de leurs œuvres.
180. A Dios pertenecen los nombres más sublimes[1], invócalo a través de ellos, y apártate de quienes los niegan. Serán castigados por lo que hicieron.
[1] Conocer y adorar a Dios a través de sus nombres y atributos es uno de los medios que poseemos para llegar al conocimiento de Dios, estudiando sus significados y aplicándolos a nuestra vida. El Profeta Mujámmad r dijo: “Dios tiene noventa y nueve nombres, cien menos uno; quien los enumere entrará al Paraíso”. Registrado por Al-Bujari y Muslim. El significado de enumerar los nombres de Dios es: 1) Conocer su cantidad y nombres. 2) Conocer sus significados, implicancia y creer en ellos. 3) Invocarlo a través de ellos, y esto es de dos formas: a) La súplica de elogio y alabanza, y b) la súplica de pedido ante la necesidad.
و الله زیباترین نامها را دارد؛ پس او را به آن [نامها] بخوانید و کسانی را که در [مورد] نامهایش بيراهه میروند [و آنها را تحریف میکنند] رها کنید. آنان به [سزاى] آنچه مىکردند، مجازات خواهند شد.
Allahs sind die schönsten Namen; so ruft Ihn damit an und laßt diejenigen, die mit Seinen Namen abwegig umgehen. Ihnen wird das vergolten, was sie zu tun pflegten.
安拉有许多极美的名号,故你们要用那些名号呼吁他。妄用安拉的名号者,你们可以置之不理,他们将受自己行为的报酬。