هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمْ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍۢ طَيِّبَةٍۢ وَفَرِحُوا۟ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌۭ وَجَآءَهُمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٢٢
الترجمات
It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them[518] by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from every place and they expect to be engulfed, they supplicate Allāh, sincere to Him in religion, "If You should save us from this, we will surely be among the thankful."
[518] The change in pronoun from the second to third person shows that the following description applies specifically to the disbelievers.
Ele é Quem vos faz caminhar, na terra e no mar até que, quando estais no barco, e este corre com eles movido por galerno vento, e com este eles[1] jubilam, chega-lhe tempestuoso vento, e chegam-lhes as ondas de todos os lados, e pensam que estão assediados: eles suplicam a Allah, sendo sinceros com Ele na devoção: "Em verdade, se nos salvares desta, seremos dos agradecidos!"
[1] Eles: os passageiros. Outro caso típico do estilo árabe: a brusca mudança de pessoa verbal, de vós para eles.
(人々よ、)かれ(アッラー*)は、あなた方を海に陸に移動させられるお方。やがて、あなた方が船上の人となり、それらがよき風と共に彼ら[1]を乗せて進み、彼らがそれ(よき風)に有頂天になると、そこに強風が到来し、あらゆる場所から波が彼らを襲い、彼らは(八方ふさがりになって)自分たちの一巻の終わりを悟る。彼らはアッラー*だけに真摯に崇拝*行為を捧げつつ、(こう言って)かれに祈るのである[2]。「もしも、あなたが私たちをこれからお救い下さったなら、私たちは必ずや(あなたの恩恵を)感謝する者となりますのに」。
[1] ここで突然「あなた方」から「彼ら」に人称が変わる独特の修辞(しゅうじ)法については、食卓章12の訳注を参照。一説に、ここで「彼ら」と切り替わるのは、アッラー*からのお怒りや、かれから遠ざけられることを示しているのだという(アッ=ラーズィー6:234参照)。 [2] つまり、それまで拝していたアッラー*以外のものを放棄し、アッラー*だけに真摯に祈りすがる(ムヤッサル211頁参照)。婦人章146の「その崇拝*行為をアッラー*だけに真摯に捧げる」に関する訳注も参照。
وه اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے[1] ، یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وه کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وه لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وه سمجھتے ہیں کہ (برے) آ گھرے[2]، (اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں [3]کہ اگر تو ہم کو اس سے بچالے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے.
[1] يُسَيِّرُكُمْ وہ تمہیں چلاتا یا چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے " خشکی میں " یعنی اس نے تمہیں قدم عطا کئے جن سے تم چلتے ہو، سواریاں مہیا کیں، جن پر سوار ہو کر دور دراز کے سفر کرتے ہو " اور سمندر میں " یعنی اللہ نے تمہیں کشتیاں اور جہاز بنانے کی عقل اور سمجھ دی، تم نے وہ بنائیں اور ان کے ذریعے سے سمندر کا سفر کرتے ہو۔ [2] أُحِيطَ بِهِمْ کا مطلب ہے، جس طرح دشمن کسی قوم یا شہر کا احاطہ یعنی محاصرہ کر لیتا ہے اور وہ دشمن کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، اسی طرح وہ جب سخت ہواؤں کے تھپیڑوں اور تلاطم خیز موجوں میں گھر جاتے ہیں اور موت ان کو سامنے نظر آتی ہے۔ [3] یعنی پھر وہ دعا میں غیر اللہ کی ملاوٹ نہیں کرتے جس طرح عام حالات میں کرتے ہیں۔ عام حالات میں تو کہتے ہیں کہ یہ بزرگ بھی اللہ کے بندے ہیں، انہیں بھی اللہ نے اختیارات سے نواز رکھا ہے اور انہی کے ذریعے سے ہم اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں۔ لیکن جب اس طرح شدائد میں گھر جاتے ہیں تو یہ سارے شیطانی فلسفے بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ یاد رہ جاتا ہے اور پھر صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ انسان کی فطرت میں اللہ واحد کی طرف رجوع کا جذبہ ودیعت کیا گیا ہے۔ انسان ماحول سے متاثر ہو کر اس جذبے یا فطرت کو دبا دیتا ہے لیکن مصیبت میں یہ جذبہ ابھر آتا ہے اور یہ فطرت عود کر آتی ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ توحید، فطرت انسانی کی آواز اور اصل چیز ہے، جس سے انسان کو انحراف نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے انحراف فطرت سے انحراف جو سراسر گمراہی ہے، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مشرکین، جب اس طرح مصائب میں گھر جاتے تو وہ اپنے خود ساختہ معبودوں کے بجائے، صرف ایک اللہ کو پکارتے تھے چنانچہ حضرت عکرمہ بن ابی جہل (رضي الله عنه) کے بارے میں آتا ہے کہ جب مکہ فتح کیا تو یہ وہاں سے فرار ہوگئے۔ باہر کسی جگہ جانے کے لیے کشتی میں سوار ہوئے، تو کشتی طوفانی ہواؤں کی زد میں آگئی۔ جس پر ملاح نے کشتی میں سوار لوگوں سے کہا کہ آج اللہ واحد سے دعا کرو، تمہیں اس طوفان سے اس کے سوا کوئی نجات دینے والا نہیں ہے۔ حضرت عکرمہ (رضي الله عنه) کہتے ہیں، میں نے سوچا اگر سمندر میں نجات دینے والا صرف ایک اللہ ہے تو خشکی میں بھی یقینا نجات دینے والا وہی ہے۔ اور یہی بات محمد کہتے ہیں۔ چنانچہ انہوں فیصلہ کر لیا اگر یہاں سے میں زندہ بچ کر نکل گیا تو مکہ واپس جا کر اسلام قبول کرلوں گا۔ چنانچہ یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہوگئے۔ (رضي الله عنه) (سنن نسائي، أبو داود- نمبر 2683۔ وذكر الألباني في الصحيحة نمبر1723) لیکن افسوس! امت محمدیہ کے عوام اس طرح شرک میں پھنسے ہوئے ہیں کہ شدائد و آلام میں بھی وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے فوت شدہ بزرگوں کو ہی مشکل کشا سمجھتے اور انہی کو مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ فَإِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آہ! فَلْيَبْكِ عَلَى الإسْلامِ مَنْ كَانَ بَاكِيًا
Dialah Tuhan yang menjadikan kamu dapat berjalan di daratan, dan (berlayar) di lautan. Sehingga ketika kamu berada di dalam kapal, dan meluncurlah (kapal) itu membawa mereka (orang-orang yang ada di dalamnya) dengan tiupan angin yang baik, dan mereka bergembira karenanya; tiba-tiba datanglah badai dan gelombang menimpanya dari segenap penjuru, dan mereka mengira telah terkepung (bahaya), maka mereka berdoa dengan tulus ikhlas kepada Allah semata. (Seraya berkata), "Sekiranya Engkau menyelamatkan kami dari (bahaya) ini, pasti kami termasuk orang-orang yang bersyukur."
Sizi karada ve denizde yürüten O’dur. Öyle ki, siz bir gemide iken ve güzel bir rüzgar ile akıp götürürken bu yüzden (yolcular) neşelenirlerken, o gemiye şiddetli bir fırtına gelip çatar, her yerden onlara dalgalar hücum eder ve onlar çepeçevre kuşatıldıklarını anlarlar da dini yalnız Allah'a halis kılarak: "Eğer bizi bundan kurtarırsan mutlaka şükredenlerden olacağız" diye Allah'a dua ederek yalvarırlar.
C’est Lui qui vous permet de vous déplacer sur terre[9] et en mer, à bord d’embarcations poussées par des vents favorables qui font votre joie. Qu’une tempête se déchaîne contre leurs occupants et voilà que, cernés de toutes parts par les vagues et persuadés que leur fin est proche, ils implorent Allah seul : « Si Tu nous délivres de ce péril, nous saurons nous montrer reconnaissants[10] ! »
[9] Notamment sur les montures qu’Il met à votre disposition. [10] En Te vouant un culte exclusif.
22. Él es Quien facilitó que puedan transitar por la tierra y por el mar. Cuando navegan con buenos vientos se complacen, pero si los sacude una fuerte tormenta y las olas los golpean por todos lados y creen que ya no tienen salvación, entonces invocan solamente a Dios con toda sinceridad diciendo: “Si nos salvas de ésta seremos de los agradecidos”.
[ای مردم،] او همان ذاتی است که شما را در خشکی و دریا به حرکت درمیآورَد تا آنگاه که در [دریا بر] کشتی قرار میگیرید و [کشتیها] با بادی دلپذیر آنان را [به سوی مقصد] حرکت میدهند و [سرنشینان] به آن شادمان میشوند. [ناگهان] طوفان شدیدی میوزد و موج از هر طرف [به سویشان] میآید و گمان میکنند که راهِ گریزی ندارند [و هلاک خواهند شد؛ آنگاه] الله را از روی اخلاص میخوانند که: «اگر ما را از این [گرفتاری] نجات دهی، قطعاً از سپاسگزاران خواهیم شد».
Er ist es, Der euch auf dem Festland und dem Meer reisen läßt. Wenn ihr dann auf den Schiffen seid und diese mit ihnen bei einem guten Wind dahinfahren und sie froh darüber sind, ein stürmischer Wind darüber kommt, die Wogen von überall über sie kommen, und sie meinen, daß sie rings umgeben werden, (dann) rufen sie Allah an, (wobei sie) Ihm gegenüber aufrichtig in der Religion (sind): Wenn Du uns nur hieraus rettest, werden wir ganz gewiß zu den Dankbaren gehören!
安拉使你们在陆上和海上旅行。当你们坐在船中,乘顺风而航行,并因风而欣喜的时候,暴风向船袭来,波涛从各处滚来,船里的人猜想自己已被包围,他们虔诚地祈祷安拉:“如果你使我们脱离这次灾难,我们必定感谢你。”