القرآن الكريم ابحث في القرآن بكلمة أو برقم مثل ٢:٢٨٢Ctrl K

سُبْحَٰنَ ٱلَّذِىٓ أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِۦ لَيْلًۭا مِّنَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ إِلَى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْأَقْصَا ٱلَّذِى بَٰرَكْنَا حَوْلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنْ ءَايَٰتِنَآ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ ١

سورة الإسراء، الآية ١مكية
في سورتها

الترجمات

English: Noor International Center1.1.2، QuranEnc

Exalted[722] is He who took His Servant [i.e., Prophet Muḥammad (ﷺ)] by night from al-Masjid al-Ḥarām to al-Masjid al-Aqṣā,[723] whose surroundings We have blessed, to show him of Our signs. Indeed, He is the Hearing,[724] the Seeing.[725]

[722] Above any imperfection or failure to do as He wills. [723] In Jerusalem. [724] Who hears every sound, distinguishes every voice, understands every word, and accepts and responds to supplications. [725] Who sees and understands all things apparent and unapparent, visible and invisible.

Portuguese: Helmi Nasr1.4.1، QuranEnc

Glorificado seja Quem fez Seu servo Muhammad viajar à noite - da Mesquita Sagrada para a Mesquita Al-'Aqsã[1] cujos arredores abençoamos[2] - para mostrar-lhe, em seguida, alguns de Nossos Sinais[3]. Por certo, Ele é O Oniouvinte, O Onividente.

[1] Aqsã: extrema, distante. Trate-seda Mesquita de Jerusalém, que se achava distante de Makkah. [2] Estes arredores sào abençoados, por serem o local eleito pelos profetas, para a adoração de Deus, desde o tempo de Moisés. É o local da revelação divina. [3] Referência aos magníficos sinais do universo celestial, contemplados pelo Profeta, quando, após a viagem terrestre, ascendeu, com Gabriel, às sete regiões empíreas.

Japanese: Saeed Sato1.0.13، QuranEnc

ハラーム・マスジド*から、われら*がその周りを祝福したアクサー・マスジド[1]まで、われら*の(力と唯一性*を示す)御徴の一部をみせるべく、一晩でその僕(ムハンマド*)をお連れになった[2]お方(アッラー*)[3]に称え*あれ。本当にかれこそは、よくお聴きになるお方、よくご覧になるお方。

[1] 「アクサー」とは、「最も遠い」という意味。その名称の由来は、ハラーム・マスジドから離れており、かつ当時はそれより遠くにマスジド*がなかったため(アッ=シャウカーニー3:286参照)。 [2] 預言者*ムハンマド*は一晩の内に、ブラークという獣に乗ってマッカ*からエルサレムに到着し、アクサー・マスジドで礼拝した後、ジブリール*に率いられて昇天した。この出来事が全て夢ではなく覚醒(かくせい)した状態で、預言者*が自らの魂と肉体を伴いつつ起こったというのが、大半の解釈学者の説(イブン・カスィール5:5-43参照) [3] 「われら」「お方」は、いずれもアッラー*を指す。この修辞法については、食卓章12の訳注も参照。

Urdu: Muhammad Junagarhi1.1.3، QuranEnc

پاک ہے[1] وه اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے[2] کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ[3] تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے[4] رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں[5]، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے واﻻ ہے.

[1] سُبْحَانَ, سَبَحَ يَسْبَحُ کا مصدر ہے۔ معنی ہیں أُنَزِّهُ اللهَ تَنْزِيهًا یعنی میں اللہ کی ہر نقص سے تنزیہ اور براءت کرتا ہوں۔ عام طور پر اس کا استعمال ایسے موقع پر ہوتا ہے جب کسی عظیم الشان واقعے کا ذکر ہو۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے نزدیک ظاہری اسباب کے اعتبار سے یہ واقعہ کتنا محال ہو، اللہ کے لئے مشکل نہیں، اس لئے کہ وہ اسباب کا پابند نہیں، وہ لفظ كُنْ سے پلک جھپکنے میں جو چاہے کر سکتا ہے۔ اسباب تو انسانوں کے لئے ہیں۔ اللہ تعالٰی ان پابندیوں اور کوتاہیوں سے پاک ہے۔ [2] إِسْرَاءٌ کے معنی ہوتے ہیں، رات کو لے جانا۔ آگے لَيْلا اس لیے ذکر کیا گیا تاکہ رات کی قلت واضح ہو جائے۔ یعنی رات ایک حصے یا تھوڑے سے حصے میں۔ یعنی چالیس راتوں کا دور دراز کا سفر، پوری رات میں بھی نہیں بلکہ رات کے ایک قلیل حصے میں طے ہوا۔ [3] أَقْصَى ٰ دور کو کہتے ہیں بیت المقدس، جو القدس یا ایلیاء (قدیم نام) شہر میں اور فلسطین میں واقع ہے، مکے سے القدس تک مسافت ”40“ دن کی ہے، اس اعتبار سے مسجد حرام کے مقابلے میں بیت المقدس کو مسجد اقصٰی (دور کی مسجد) کہا گیا ہے۔ [4] یہ علاقہ قدرتی نہروں اور پھلوں کی کثرت اور انبیاء کا مسکن و مدفن ہونے کے لحاظ سے ممتاز ہے، اس لئے اسے بابرکت قرار دیا گیا ہے۔ [5] یہ اس سیر کا مقصد ہے تاکہ ہم اپنے بندے کو عجائبات اور آیات کبریٰ دکھائیں۔ جن میں سے ایک آیت اور معجزہ یہ سفر بھی ہے کہ اتنا لمبا سفر رات کے ایک قلیل حصے میں ہو گیا نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو جو معراج ہوئی یعنی آسمانوں پر لے جایا گیا، وہاں مختلف آسمانوں پر انبیاء (عليهم السلام) سے ملاقاتیں ہوئیں اور سدرۃ المنتہٰی پر، جو عرش سے نیچے ساتویں آسمان پر ہے، اللہ تعالٰی نے وحی کے ذریعے سے نماز اور دیگر بعض چیزیں عطا کیں۔ جس کی تفصیلات صحیح احادیث میں بیان ہوئی ہیں اور صحابہ و تابعین سے لے کر آج تک امت کے اکثر علماء فقہاء اس بات کے قائل چلے آرہے ہیں کہ یہ معراج بِجَسَدِهِ الْعُنْصُرِيِّ‌ حالت بیداری میں ہوئی ہے۔ یہ خواب یا روحانی سیر اور مشاہدہ نہیں ہے، بلکہ عینی مشاہدہ ہے جو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اپنے پیغمبر کو کرایا ہے۔ اس معراج کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ اسراء کہلاتا ہے، جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اور جو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کا نام ہے، یہاں پہنچنے کے بعد نبی (صلى الله عليه وسلم) نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ بیت المقدس سے پھر آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا، یہ سفر کا دوسرا حصہ ہے جسے معراج کہا جاتا ہے۔ اس کا تذکرہ سورہ نجم میں کیا گیا ہے اور باقی تفصیلات احادیث میں بیان کی گئی ہیں۔ عام طور پر اس پورے سفر کو ”معراج“ سے ہی تعبیر کیا جاتا ہے۔ معراج سیڑھی کو کہتے ہیں یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ عُرِجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ (مجھے آسمان پر لے جایا یا چڑھایا گیا) سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ اس سفر کا یہ دوسرا حصہ پہلے سے بھی زیادہ اہم اور عظیم الشان ہے، اس لئے معراج کا لفظ ہی زیادہ مشہور ہو گیا۔ اس کی تاریخ میں اختلاف ہے۔ تاہم اس میں اتفاق ہے کہ یہ ہجرت سے قبل کا واقعہ ہے۔ بعض کہتے ہیں ایک سال قبل اور بعض کہتے ہیں کئی سال قبل یہ واقعہ پیش آیا۔ اسی طرح مہینے اور اس کی تاریخ میں اختلاف ہے۔ کوئی ربیع الاول کی 17 یا 27، کوئی رجب کی 27 اور بعض کوئی اور مہینہ اس کی تاریخ بتلاتے ہیں۔ (فتح القدیر)

Indonesian: Ministry of Religious Affairs1.0.1، QuranEnc

Mahasuci (Allah), yang telah memperjalankan hamba-Nya (Muhammad) pada malam hari dari Masjidil Haram ke Masjidil Aqsa yang telah Kami berkahi sekelilingnya[470] agar Kami perlihatkan kepadanya sebagian tanda-tanda (kebesaran) Kami. Sesungguhnya Dia Maha Mendengar, Maha Melihat.

[470] Masjidil Aqsa dan daerah sekitarnya dapat berkah dari Allah dengan diturunkan nabi-nabi di negeri itu berikut kesuburan tanahnya.

Turkish: Rowwad Translation Center1.0.4، QuranEnc

Bir gece kulunu, Mescid-i Haram’dan, çevresini mübarek kıldığımız Mescid-i Aksa’ya ayetlerimizi ona göstermek için götüren (Allah her türlü noksanlıktan) münezzehtir. Şüphesiz O, her şeyi işitendir, görendir.

French: Rachid Maach1.0.3، QuranEnc

Gloire à Celui qui, de nuit, fit voyager Son serviteur[1] de la Mosquée sacrée de la Mecque à la Mosquée éloignée de Jérusalem, dont Il a béni les alentours, afin de lui montrer certains de Ses signes. Il est, en vérité, Celui qui entend tout et voit tout.

[1] Le prophète Mouhammad.

Spanish: Isa Garcia1.0.2، QuranEnc

1. Glorificado sea Quien transportó a Su siervo durante la noche, desde la mezquita[1] sagrada[2] a la mezquita lejana[3] cuyos alrededores bendije, para mostrarle algunos de Mis signos. Él todo lo oye, todo lo ve.

[1] La palabra “mezquita” (másyid مسجد), desde el punto de vista lingüístico en idioma árabe, se refiere a un lugar de postración, sin distinción alguna de índole religiosa. Desde el punto de vista jurídico islámico, la palabra “mezquita” constituye todo lugar en la tierra que es apto para postración y adoración de Dios, sea o no un edificio. Este versículo hace referencia a dos lugares santos en Jerusalén y La Meca, ya que son bendecidos independientemente de la presencia o ausencia de un edificio en el momento del viaje nocturno del Profeta Mujámmad r desde La Meca a Jerusalén, y luego su ascenso a los cielos. [2] En La Meca. [3] En Jerusalén.

Persian: Rowwad Translation Center1.1.3، QuranEnc

پاک و منزّه است آن [پروردگاری‌] كه بنده‌اش [محمد] را شبانگاه از مسجد الحرام به سوى مسجد الاقصى ـ كه پیرامونش را بركت داده‌ایم ـ سِیر داد تا برخی از نشانه‌هاى [قدرت] خویش را به او بنمایانیم. بی‌تردید، او همان شنواى بیناست.

German: Frank Bubenheim1.1.4، QuranEnc

Preis sei Dem, Der Seinen Diener bei Nacht von der geschützten Gebetsstätte zur fernsten Gebetsstätte, deren Umgebung Wir gesegnet haben, reisen ließ, damit Wir ihm (etwas) von Unseren Zeichen zeigen. Er ist ja der Allhörende, der Allsehende.

Chinese: Muhammad Makeen1.0.2، QuranEnc

赞美安拉,超绝万物,他在一夜之间,使他的仆人,从禁寺行到远寺,我在远寺的四周降福,以便我昭示他我的一部分迹象,安拉确是全聪的,确是全明的。