قَالُوا۟ حَرِّقُوهُ وَٱنصُرُوٓا۟ ءَالِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ ٦٨
الترجمات
They said, "Burn him and support your gods - if you are to act."
Disseram: "Queimai-o,[1] e socorrei vossos deuses, se quereis fazer algo por eles."
[1] O: Abraão.
彼らは言った。「そいつを焼き(殺し)、あなた方の神々を助けるのだ。もし、あなた方が(神々を援助)するならば」。
کہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے.[1]
[1] حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے جب یوں اپنی حجت تمام کر دی اور ان کی ضلالت وحماقت کو ایسے طریقے سے ان پر واضح کر دیا کہ وہ لاجواب ہوگئے۔ تو چونکہ وہ توفیق ہدایت سے محروم تھے اور کفر و شرک نے ان کے دلوں کو بےنور کر دیا تھا۔ اس لئے بجائے اس کے کہ وہ شرک سے بعض آجاتے، الٹا ابراہیم (عليه السلام) کے خلاف سخت اقدام کرنے پر آمادہ ہوگئے اور اپنے معبودوں کی دہائی دیتے ہوئے انہیں آگ میں جھونک دینے کی تیاری شروع کر دی، چنانچہ آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا گیا اور اس میں حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو کہا جاتا ہے کہ منجنیق (جس سے بڑے پتھر پھینکے جاتے ہیں) کے ذریعے سے پھینکا۔ لیکن اللہ تعالٰی نے آگ کو حکم دیا کہ ابراہیم (عليه السلام) کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی بن جا علماء کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ، ٹھنڈی کے ساتھ ' سلامتی ' نہ فرماتا تو اس کی ٹھنڈک ابراہیم (عليه السلام) کے لئے ناقابل برداشت ہوتی۔ بہرحال یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے جو آسمان سے باتیں کرتی ہوئی دہکتی آگ کے گل و گلزار بن جانے کی صورت میں حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے لئے اللہ کی مشیت سے ظاہر ہوا۔ اس طرح اللہ نے اپنے بندے کو دشمنوں کی سازش سے بچا لیا۔
Mereka berkata, "Bakarlah dia dan bantulah tuhan-tuhan kamu, jika kamu benar-benar hendak berbuat."
(İçlerinden bazıları), “Eğer (bir şey) yapacaksanız, onu yakın da ilâhlarınıza yardım edin” dediler.
Ils dirent : « Jetez-le au feu, si vous êtes décidés à venger vos divinités ! »
68. Exclamaron: “¡Quémenlo [en la hoguera] para vengar a sus ídolos! Si es que van a hacer algo”.
آنان گفتند: «اگر مىخواهید [برای مجازاتش] كارى كنید، او را بسوزانید و معبودانتان را یاری دهید».
Sie sagten: „Verbrennt ihn und helft euren Göttern, wenn ihr etwas tun wollt.
他们说:“你们烧死他吧!你们援助你们的神灵吧!如果你们有所作为。”