وَٱلَّذِىٓ أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِى خَطِيٓـَٔتِى يَوْمَ ٱلدِّينِ ٨٢
الترجمات
And who I aspire that He will forgive me my sin on the Day of Recompense."
E a Quem aspiro o erro, no Dia do Juízo."
また報いの日*には、我が過ちをお赦し下さることを、私が所望するお方」。
اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا.[1]
[1] یہاں امید، یقین کےمعنی میں ہے۔ کیونکہ کسی بڑی شخصیت سے امید، یقین کے مترادف ہی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو کائنات کی سب سے بڑی ہستی ہے، اس سے وابستہ امید، یقینی کیوں نہیں ہوگی۔ اسی لیے مفسرین کہتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ کے لیے عَسَى کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ یقین ہی کے مفہوم میں ہے۔ خَطِيْئَتِي، خَطِيئَةٌ واحد کا صیغہ ہے لیکن خَطَايَا (جمع) کے معنی میں ہے۔ انبیا علیہم السلام اگرچہ معصوم ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سے کسی بڑے گناہ کا صدور ممکن نہیں۔ پھر بھی اپنے بعض افعال کو کوتاہی پر محمول کرتے ہوئےبارگاہ الٰہی میں عفو طلب ہوں گے۔
dan Yang sangat ku inginkan akan mengampuni kesalahanku pada hari Kiamat."
“O, hesap gününde hatalarımı bağışlayacağını umduğumdur.”
et qui, je l’espère, me pardonnera mes fautes le Jour du jugement.
82. de Él anhelo que perdone mis pecados el Día del Juicio.
و ذاتی که امیدوارم روز جزا گناهانم را ببخشد.
und von Dem ich erhoffe, daß Er mir am Tag des Gerichts meine Verfehlung vergeben wird.
我希望他在报应日赦宥我的过失。