وَٱلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ ٣٨
الترجمات
And those who have responded to their Lord and established prayer and whose affair is [determined by] consultation among themselves, and from what We have provided them, they spend,
E para os que atendem a seu Senhor, e cumprem a oração, e cuja conduta é a consulta, entre eles, e despendam daquilo que lhes damos por sustento,
また(彼らは、)その主*(の唯一性*と服従の呼びかけ)に応え、礼拝を遵守*し、その諸事が彼らの間の相談(によって決定されるの)であり、われら*が彼らに授けたものの内から(施しとして)費やす[1]者たち。
[1] 「われら*が・・・費やす」については、雌牛章3の訳注を参照。
اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں[1] اور نماز کی پابندی کرتے ہیں[2] اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے[3]، اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں.
[1] یعنی اس کے حکم کی اطاعت، اس کے رسول کا اتباع اور اس کے زواجر سے اجتناب کرتے ہیں۔ [2] نماز کی پابندی اور اقامت کا بطور خاص ذکر کیا کہ عبادات میں اس کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ [3] شُورَى ٰ، کا لفظ ذِكْرَىٰ اور بُشْرَىٰ کی طرح باب مفاعلہ سے اسم مصدر ہے۔ یعنی اہل ایمان ہر اہم کام باہمی مشاورت سے کرتے ہیں، اپنی ہی رائے کو حرف آخر نہیں سمجھتے خود نبی (صلى الله عليه وسلم) کو بھی اللہ نے حکم دیا کہ مسلمانوں سے مشورہ کرو (آل عمران: 159) چنانچہ آپ جنگی معاملات اور دیگر اہم کاموں میں مشاورت کا اہتمام فرماتے تھے۔ جس سے مسلمانوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی اور معاملے کے مختلف گوشے واضح ہوجاتے۔ حضرت عمر (رضي الله عنه) جب نیزے کے وار سے زخمی ہوگئے اور زندگی کی کوئی امید باقی نہ رہی تو امر خلافت میں مشاورت کے لیے چھ آدمی نامزد فرما دیے۔ عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف (رضي الله عنهم) ۔ انہوں نے باہم مشورہ کیا اور دیگر لوگوں سے بھی مشاورت کی اور اس کے بعد حضرت عثمان (رضي الله عنه) کو خلافت کے لیے مقرر فرمادیا۔ بعض لوگ مشاورت کے اس حکم اور تاکید سے ملوکیت کی تردید اور جمہوریت کا اثبات کرتے ہیں۔ حالانکہ مشاورت کا اہتمام ملوکیت میں بھی ہوتا ہے۔ بادشاہ کی بھی مجلس مشاورت ہوتی ہے، جس میں ہر اہم معاملے پر سوچ بچار ہوتا ہے اس لیے اس آیت سے ملوکیت کی نفی قطعاً نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں جمہوریت کو مشاورت کے ہم معنی سمجھنا یکسر غلط ہے۔ مشاورت ہر کہ و مہ سے نہیں ہوسکتی، نہ اس کی ضرورت ہی ہے۔ مشاورت کا مطلب ان لوگوں سے مشورہ کرنا ہے جو اس معاملے کی نزاکتوں اور ضرورتوں کو سمجھتے ہیں جس میں مشورہ درکار ہوتا ہے۔ جیسے بلڈنگ، پل وغیرہ بنانا ہو تو، کسی تانگہ بان، درزی یا رکشہ ڈرائیور سے نہیں، کسی انجینئر سے مشورہ کیا جائے گا، کسی مرض کے بارے میں مشورے کی ضرورت ہوگی تو طب و حکمت کے ماہرین کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ جب کہ جمہوریت میں اس کے برعکس ہر بالغ شخص کو مشورے کا اہل سمجھا جاتا ہے، چاہے وہ کورا ان پڑھ، بےشعور اور امور سلطنت کی نزاکتوں سے یکسر بے خبر ہو۔ بنابریں مشاورت کے لفظ سے جمہوریت کا اثبات، تحکم اور دھاندلی کے سوا کچھ نہیں، اور جس طرح سوشلزم کے ساتھ اسلامی کا لفظ لگانے سے سوشلزم مشرف بہ اسلام نہیں ہوسکتا، اسی طرح جمہوریت میں اسلامی کی پیوند کاری سے مغربی جمہوریت پر خلافت کی قباراست نہیں آسکتی۔ مغرب کا یہ پودا اسلام کی سرزمین پر نہیں پنپ سکتا۔
dan (bagi) orang-orang yang menerima (mematuhi) seruan Tuhan dan melaksanakan salat, sedang urusan mereka (diputuskan) dengan musyawarah antara mereka; dan mereka menginfakkan sebagian dari rezeki yang Kami berikan kepada mereka,
Rablerinin (tevhid davetine) icabet ederler, namazlarını ikame ederler. Onların işleri aralarındaki şûrâ iledir. Kendilerine verdiğimiz rızıklardan da infak ederler.
ceux qui, ayant répondu à l’appel de leur Seigneur, accomplissent la prière, ne prennent aucune décision importante sans se consulter mutuellement et offrent par charité une partie de ce que Nous leur avons accordé,
38. para quienes responden a su Señor, cumplen con la oración prescrita, se consultan para resolver sus asuntos y con lo que les he concedido hacen caridades,
و کسانی كه [دعوت] پروردگارشان را پذیرا مىشوند و نماز برپا مىدارند و كارشان در ميانشان [بر پايه] مشورت است و از آنچه روزىشان كردهایم، انفاق مىكنند.
und diejenigen, die auf ihren Herrn hören und das Gebet verrichten, ihre Angelegenheit(en) durch Beratung untereinander (regeln) und von dem ausgeben, womit Wir sie versorgt haben,
也归于应答主的号召,且谨守拜功者;他们的事务,是由协商而决定的,他们分舍我所赐予他们的;