القرآن الكريم ابحث في القرآن بكلمة أو برقم مثل ٢:٢٨٢Ctrl K

وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَٰنِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ٣٩

سورة النجم، الآية ٣٩مكية
في سورتها

الترجمات

English: Noor International Center1.1.2، QuranEnc

And that there is not for man except that [good] for which he strives

Portuguese: Helmi Nasr1.4.1، QuranEnc

E que não há, para o ser humano, senão o que adquire com seu esforço,

Japanese: Saeed Sato1.0.13، QuranEnc

また人間には、自分が努力したもの(の報い)しかない、ということを?[1]

[1] このことは、人が他人の努力から益を得る可能性を否定しているわけではなく(山章21も参照)、人は自分自身の努力しか有してはおらず、他人の努力にまで立ち入ることは出来ないことを示している(アッ=シャンキーティー7:470-471参照)。

Urdu: Muhammad Junagarhi1.1.3، QuranEnc

اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی.[1]

[1] یعنی جس طرح کوئی کسی دوسرےکے گناہ کا ذمےدار نہیں ہوگا، اسی طرح اسے آخرت میں اجر بھی انہی چیزوں کاملے گا، جن میں اس کی اپنی محنت ہو گی۔ (اس جزا کا تعلق آخرت سے ہے، دنیا سے نہیں۔ جیساکہ بعض سوشلسٹ قسم کے اہل علم اس کا یہ مفہوم باور کرا کے غیر حاضر زمینداری اور کرایہ داری کو ناجائز قرار دیتے ہیں) البتہ اس آیت سے ان علماکا استدلال صحیح ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن خوانی کا ثواب میت کو نہیں پہنچتا۔ اس لیے کہ یہ مردہ کا عمل ہے نہ اس کی محنت۔ اسی لیے رسول ﹲ نے اپنی امت کو مردوں کے لیے قرآن خوانی کی ترغیب دی نہ کسی نص یا اشارہ النص سے اس کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اسی طرح صحابہ کرام (رضي الله عنهم) سے یہ بھی عمل منقول نہیں۔ اگر یہ عمل، عمل خیرہوتا توصحابہ (رضي الله عنهم) اسے ضرور اختیار کرتے۔ اور عبادات و قربات کے لیے نص کا ہونا ضروری ہے، اس میں رائے اور قیاس نہیں چل سکتا۔ البتہ دعا اور صدقہ خیرات کا ثواب مردوں کوپہنچتا ہے، اس پر تمام علما کا اتفاق ہے، کیونکہ یہ شارع کی طرف سے منصوص ہے۔ اور وہ جو حدیث ہے کہ مرنے کے بعد تین چیزوں کاسلسلہ جاری رہتا ہے، تو وہ بھی دراصل انسان کے اپنے عمل ہیں جو کسی نہ کسی انداز سے اس کی موت کے بعد بھی جاری رہتے ہیں۔ اولاد کونبی ﹲ نےخود انسان کی اپنی کمائی قرار دیا ہے۔ (سنن النسائي، كتاب البيوع، باب الحث على الكسب) صدقۂ جاریہ، وقف کی طرح انسان کے اپنے آثارعمل ہیں۔ «وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ» (یٰس:12) اسی طرح وہ علم، جس کی اس نے لوگوں میں نشر واشاعت کی اور لوگوں نے اس کی اقتدا کی، تویہ اس کی سعی اوراس کا عمل ہے اور بمصداق حدیث نبوی "مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى، كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْل أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا"- (سنن أبي داود كتاب السنة، باب لزوم السنة) اقتدا کرنے والوں کا اجر بھی اسے پہنچتا رہے گا۔ اس لیے یہ حدیث، آیت کے منافی نہیں ہے۔ (ابن کثیر)۔

Indonesian: Ministry of Religious Affairs1.0.1، QuranEnc

dan bahwa manusia hanya memperoleh apa yang telah diusahakannya,

Turkish: Rowwad Translation Center1.0.4، QuranEnc

İnsan için çalıştığından başkası yoktur.

French: Rachid Maach1.0.3، QuranEnc

et que chacun ne recevra que le fruit de son labeur,

Spanish: Isa Garcia1.0.2، QuranEnc

39. que el ser humano no obtendrá sino el fruto de sus esfuerzos,

Persian: Rowwad Translation Center1.1.3، QuranEnc

و اینكه انسان فقط ثمرۀ تلاش [و نیت] خود را خواهد داشت؛

German: Frank Bubenheim1.1.4، QuranEnc

und daß es für den Menschen nichts anderes geben wird als das, worum er sich (selbst) bemüht,

Chinese: Muhammad Makeen1.0.2، QuranEnc

各人只得享受自己的劳绩;