إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُۥ بَعِيدًۭا ٦
الترجمات
Indeed, they see it [as] distant,
Por certo, eles o[1] vêem longe,
[1] O: o castigo.
本当に彼ら(不信仰者*)は、それ(懲罰)があり得ないと思っている。
بیشک یہ اس (عذاب) کو دور سمجھ رہے ہیں.[1]
[1] اس یوم کی تعریف میں بہت اختلاف ہے جیسا کہ الم سجدہ کے آغاز میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ یہاں امام ابن کثیر نے چار اقوال نقل فرمائےہیں۔ پہلا قول ہے کہ اس سے وہ مسافت مراد ہے جو عرش عظیم سے اسفل سافلین (زمین کے ساتویں طبقے) تک ہے۔ یہ مسافت 50 ہزار سال میں طے ہونے والی ہے۔ دوسرا قول ہے کہ یہ دنیا کی کل مدت ہے۔ ابتدائے آفرینش سے وقوع قیامت تک، اس میں سے کتنی مدت گزر گئی اور کتنی باقی ہے، اسے صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تیسرا قول ہے کہ یہ دنیا و آخرت کے درمیان فاصلہ ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن کی مقدار ہے۔ یعنی کافروں پر یہ یوم حساب پچاس ہزار سال کی طرح بھاری ہوگا۔ لیکن مومن کے لئے دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے سے بھی مختصر ہوگا۔ (مسند احمد، 3/75) امام ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے کیوں کہ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کو قیامت والے دن جو عذاب دیا جائے گا اس کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: «حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ»۔ (صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب اثم مانع الزکوٰۃ)، ”یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، ایسے دن میں، جس کی مدت تمہاری گنتی کے مطابق پچاس ہزار سال ہوگی“۔ اس تفسیر کی رو سے فی یوم کا تعلق عذاب سے ہوگا، یعنی وہ واقع ہونے والا عذاب قیامت والے دن ہوگا جو کافروں پر پچاس ہزار سال کی طرح بھاری ہوگا۔
Mereka memandang (azab) itu jauh (mustahil).
Doğrusu onlar, o günü çok uzak görüyorlar.
Ce châtiment qui leur paraît si impensable,
6. porque ellos[1] lo ven lejano [al Día del Juicio],
[1] Los que desmienten y rechazan el Mensaje.
بیگمان، آنها آن [روز] را دور میبینند
Gewiß, sie sehen sie weit entfernt,
他们以为那刑罚是很远的,